پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد ستمبر 2026 میں دوبارہ تیزی سے بڑھی ہے، جس پر مقامی گاڑی ساز کمپنیوں اور آٹو پارٹس وینڈرز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے حوالے سے ڈان کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مجموعی طور پر 2,276 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد ہوئیں، جن میں 2,238 گاڑیاں گفٹ اسکیم کے تحت ملک میں داخل ہوئیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد صرف 48 یونٹس تک محدود تھی، لیکن جون میں یہ تعداد 843، جولائی میں 1,938 اور اگست میں 1,445 تک پہنچی۔ ستمبر میں تعداد دوبارہ بڑھ کر 2,276 ہو گئی۔ حکومت نے پرسنل بیگیج اسکیم پر پابندیاں سخت کی تھیں، تاہم گفٹ اسکیم کے ذریعے درآمد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔
مقامی آٹو صنعت کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی اور بعض عملی کمزوریوں نے درآمدی گاڑیوں کے کاروبار کو دوبارہ بڑھنے میں مدد دی ہے۔ ایک صنعتی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ بعض شہروں میں ملکیت کی منتقلی پر ایک سال کی پابندی مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو رہی، تاہم یہ صنعت کا دعویٰ ہے اور اس کی آزاد سرکاری تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
آٹو پارٹس وینڈرز کا کہنا ہے کہ مقامی پیداوار تین سال کے وقفے کے بعد بحالی کی طرف جا رہی تھی اور درآمدات میں تیزی سے مقامی اسمبلرز، پرزہ ساز کمپنیوں اور روزگار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان کا مؤقف ہے کہ ضوابط میں نرمی سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا اور صارفین کو زیادہ انتخاب ملے گا۔
یہ بحث حکومت کی آٹو پالیسی کے دو مقاصد کے درمیان توازن سے جڑی ہے: ایک طرف صارفین کو مسابقتی قیمت اور انتخاب فراہم کرنا، اور دوسری طرف مقامی صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کو تحفظ دینا۔ ستمبر کے تازہ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ گفٹ اسکیم استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کا سب سے بڑا راستہ بن گئی ہے، جس کے باعث پالیسی کے نفاذ اور مقامی صنعت پر اثرات کی بحث مزید اہم ہو گئی ہے۔
