اسلام آباد: یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) پالیسی کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 32 ارب 90 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک کے غیرخدمت یافتہ اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں موبائل براڈبینڈ اور آپٹیکل فائبر رابطہ کاری کو وسعت دینا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کی، جبکہ یو ایس ایف انتظامیہ نے منصوبوں، ترجیحات اور اخراجات کی تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کیں۔

منظور شدہ بجٹ میں 24 ارب 89 کروڑ روپے جاری منصوبوں کی ادائیگیوں کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ 6 ارب 56 کروڑ روپے نئی اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے۔ یو ایس ایف کے مطابق اس وقت 28 منصوبے زیرِ عمل ہیں، جن میں 17 نیکسٹ جنریشن براڈبینڈ سروس ڈلیوری منصوبے اور 11 نیکسٹ جنریشن آپٹیکل فائبر نیٹ ورک سروسز منصوبے شامل ہیں۔ کمیٹی نے نئی مختص رقم کے تحت مزید نو موبائل براڈبینڈ اور چار آپٹیکل فائبر منصوبوں کی منظوری بھی دی، جبکہ دونوں پروگراموں کے چھوٹے لاٹس کے لیے الگ بلاک مختصات رکھی گئی ہیں۔

کمیٹی نے پہلی سہ ماہی کے لیے 5 ارب 57 کروڑ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی تاکہ منظور شدہ پروگراموں پر عمل درآمد میں مالی رکاوٹ نہ آئے۔ یو ایس ایف کا مینڈیٹ ایسے علاقوں میں ٹیلی کام سروسز پہنچانا ہے جہاں تجارتی بنیاد پر نیٹ ورک توسیع نجی کمپنیوں کے لیے کم پرکشش سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے فنڈ کے منصوبے عموماً دور دراز اضلاع، کم آبادی والے علاقوں اور ان خطوں پر مرکوز ہوتے ہیں جہاں موبائل ڈیٹا یا فائبر بیک ہال کی دستیابی محدود ہو۔

ڈیجیٹل رابطے کی توسیع کا اثر صرف موبائل انٹرنیٹ تک محدود نہیں رہتا۔ بہتر براڈبینڈ رسائی سے آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، ای کامرس، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات، سرکاری ای سروسز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔ تاہم منصوبوں کی حقیقی افادیت کا انحصار صرف بجٹ مختص ہونے پر نہیں بلکہ بروقت ٹینڈرنگ، نیٹ ورک کی تعمیر، معیار کی نگرانی اور فعال سروس کی دستیابی پر بھی ہوگا۔

حکومت نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل شمولیت کو معاشی اور سماجی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ یو ایس ایف کے تازہ بجٹ میں جاری اور نئے دونوں منصوبوں کے لیے بڑی رقم مختص ہونا اس ترجیح کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ منظور شدہ نئے منصوبے کن اضلاع اور علاقوں کو ہدف بناتے ہیں اور ان کے ذریعے کتنی آبادی کو پہلی بار یا بہتر معیار کے ساتھ تیز رفتار انٹرنیٹ اور فائبر رابطہ دستیاب ہوتا ہے۔