اسلام آباد: یونیورسل سروس فنڈ کی پالیسی کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 32.90 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا ہے اور 15 فور جی منصوبوں پر پیش رفت کی منظوری دی ہے جن کا ہدف 21 اضلاع کے 1,893 مواضعات میں تقریباً 36 لاکھ 60 ہزار افراد تک بہتر موبائل براڈبینڈ رابطہ پہنچانا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کی۔

کمیٹی نے جاری منصوبوں کی ادائیگیوں کے لیے 24.89 ارب روپے مختص کیے، جبکہ نئی سرگرمیوں کے لیے 6.56 ارب روپے رکھے گئے۔ پہلے سہ ماہی کے لیے 5.57 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ منظور شدہ پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھا جا سکے۔ یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو مدثر نوید اور سینئر انتظامیہ نے منصوبوں اور بجٹ ترجیحات پر بریفنگ دی۔

یو ایس ایف اس وقت 28 منصوبے چلا رہا ہے، جن میں 17 نیکسٹ جنریشن براڈبینڈ سروس ڈیلیوری اور 11 نیکسٹ جنریشن آپٹیکل فائبر نیٹ ورک سروسز منصوبے شامل ہیں۔ نئی مختص رقم میں نو مزید براڈبینڈ منصوبے، چار آپٹیکل فائبر منصوبے اور دور دراز چھوٹی آبادیوں کے لیے بلاک فنڈز شامل ہیں۔

سرکاری منصوبہ جاتی اعداد کے مطابق 15 کنٹریکٹ شدہ فور جی اسکیموں کے لیے مجموعی سبسڈی 14.008 ارب روپے ہے۔ کرم منصوبہ 75 فیصد تک مکمل بتایا گیا، جو 40 مواضعات اور 251,980 افراد کو ہدف بناتا ہے۔ پشین، چنیوٹ، ایبٹ آباد، بدین اور کوہاٹ کے پانچ منصوبے 50 فیصد تک مکمل ہونے کی اطلاع ہے۔ پشین منصوبہ پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ کے 306 مواضعات میں 574,545 افراد کو ہدف بناتا ہے۔

عمرکوٹ اور خضدار کے منصوبے 25 فیصد تک مکمل بتائے گئے۔ خضدار کے 144 مواضعات اور 75,637 افراد کے لیے تقریباً 2.945 ارب روپے کی سبسڈی مقرر ہے، جو ان 15 اسکیموں میں سب سے بڑی سبسڈی بتائی گئی۔ اس کے علاوہ گوجرانوالہ، مظفرگڑھ، مانسہرہ، ہری پور، راجن پور، سجاول اور سمال لاٹ پی-15 پر کام جاری ہے۔

یو ایس ایف کا بنیادی مقصد ایسے علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن اور براڈبینڈ خدمات پھیلانا ہے جہاں تجارتی بنیاد پر نیٹ ورک کی توسیع محدود رہتی ہے۔ منظور شدہ منصوبوں سے فور جی کوریج اور آن لائن خدمات تک رسائی بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ان منصوبوں کے عملی اثرات ان کی بروقت تکمیل، نیٹ ورک کے معیار اور متعلقہ علاقوں میں قابل استعمال سروس کی دستیابی پر منحصر ہوں گے۔