اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی یکم اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 11.53 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر حساس قیمت اشاریہ 0.21 فیصد بڑھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ اضافے میں خوراک اور بعض غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی نے اہم کردار ادا کیا۔
حساس قیمت اشاریہ، یا ایس پی آئی، ملک کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 بنیادی اشیا اور خدمات کی قیمتیں جمع کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ اشاریہ روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی قیمتوں میں مختصر مدت کی تبدیلی کا اندازہ فراہم کرتا ہے اور ماہانہ صارف قیمت اشاریے کے مقابلے میں زیادہ فوری رجحان دکھاتا ہے۔ تازہ ہفتے میں مجموعی اشاریے کا ہفتہ وار اضافہ محدود رہا، لیکن گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں قیمتوں کی سطح نمایاں طور پر بلند رہی۔
اعداد و شمار میں مختلف اشیا کی قیمتوں کا رجحان یکساں نہیں تھا۔ بعض بنیادی غذائی اشیا مہنگی ہوئیں جبکہ کئی اشیا میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت سالانہ تقابلی فہرست میں 45.52 فیصد، آلو 39.54 فیصد، چینی 21.95 فیصد، انڈے 17.47 فیصد، نمک 14.81 فیصد، مسور کی دال 10.92 فیصد، چنے کی دال 9.90 فیصد اور مونگ کی دال 8.20 فیصد کم بتائی گئی۔
ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مجموعی صارف قیمتوں اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں قیمتوں کا دباؤ معاشی پالیسی کا اہم موضوع ہے۔ ایس پی آئی میں معمولی ہفتہ وار اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران مجموعی قیمتوں میں تیز چھلانگ نہیں آئی، تاہم 11.53 فیصد کی سالانہ شرح بتاتی ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ضروری اشیا کی مجموعی قیمتیں اب بھی کافی بلند ہیں۔
قیمتوں کے ہفتہ وار اعداد میں موسمی رسد، ایندھن اور ٹرانسپورٹ لاگت، درآمدی اخراجات اور مقامی منڈیوں کی فراہمی جیسے عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ہفتے کا اشاریہ طویل مدتی مہنگائی کے رجحان کا مکمل متبادل نہیں، بلکہ مختصر مدت میں صارفین پر پڑنے والے قیمتوں کے دباؤ کا ایک اہم پیمانہ ہے۔

