ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ کے چوتھے دن پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی۔ 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 120 رنز پر آؤٹ ہوئی، جس کے بعد میزبان ٹیم نے دو میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کی۔
جیڈن سیلز نے نئی گیند سے درست لائن اور مسلسل دباؤ برقرار رکھتے ہوئے 20 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی دوسری اننگز میں بابر اعظم 58 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، لیکن دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرتی رہیں۔ محمد عباس نے 23 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کی مگر یہ شراکت ہدف کے قریب نہ پہنچ سکی۔
ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے تھے، جس میں شائی ہوپ کے 92 اور کیوم ہوج کے 84 رنز نمایاں رہے۔ پاکستان نے شان مسعود کی 109 اور امام الحق کی 63 رنز کی اننگز کی مدد سے 282 رنز بنائے، یوں میزبان ٹیم کو 29 رنز کی برتری ملی۔
پاکستان کے محمد عباس نے دوسری اننگز میں 22 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں اور ویسٹ انڈیز کو 181 تک محدود رکھا۔ اس کارکردگی نے پاکستان کے لیے قابلِ حصول ہدف بنایا، لیکن ابتدائی وکٹوں اور شراکتیں نہ بننے کی وجہ سے بیٹنگ یونٹ فائدہ نہ اٹھا سکا۔
جسٹن گریوز نے پاکستان کی پہلی اننگز میں 27 رنز کے عوض پانچ وکٹیں لیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ دوسری طرف شان مسعود پہلی اننگز کے دوران انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث دوسری اننگز میں آٹھویں نمبر پر آئے؛ پاکستان ٹیم نے کہا کہ ان کی دستیابی طبی نگرانی سے مشروط رہے گی۔
اس نتیجے کے بعد دونوں ٹیموں کے لیے اگلا مرحلہ پورٹ آف اسپین میں 2 اگست سے طے دوسرا ٹیسٹ تھا۔ پاکستان کو نئی گیند کے سامنے ابتدائی اوورز گزارنے اور بڑی شراکتیں بنانے پر کام درکار تھا، جبکہ ویسٹ انڈیز کے لیے سیلز اور گریوز کی نظم و ضبط والی بولنگ سیریز میں اہم طاقت بن کر سامنے آئی۔




