جنیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 23 ستمبر 2026 کو مانع حمل طریقوں کے محفوظ اور مؤثر انتخاب بڑھانے کے لیے نئی عالمی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ ادارے کے مطابق دنیا بھر میں اندازاً 16 کروڑ 40 لاکھ خواتین ایسی ہیں جو حمل کو مؤخر یا روکنا چاہتی ہیں لیکن کسی مانع حمل طریقے کا استعمال نہیں کر رہیں، اس لیے مختلف طبی ضروریات اور ذاتی ترجیحات کے مطابق مزید قابلِ رسائی آپشنز فراہم کرنا ضروری ہے۔

نئی ہدایات میں مشترکہ ہارمونل مانع حمل گولیوں کے استعمال کے طریقہ کار پر بھی سفارشات شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق بعض صارفین کے لیے روایتی ماہانہ وقفے کے بجائے گولیوں کا توسیعی استعمال چھ ماہ تک یا مسلسل استعمال ایک سال تک متبادل طریقہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ طبی موزونیت اور متعلقہ احتیاطی اصول پورے کیے جائیں۔ اسی طرح بعض مانع حمل امپلانٹس کے مؤثر استعمال کی مدت پانچ سال تک تسلیم کرنے کی سفارش بھی شامل کی گئی ہے۔

ہنگامی مانع حمل کے بارے میں ادارے نے مائفے پریسٹون کو ایک اضافی آپشن کے طور پر شامل کیا ہے۔ ہدایت کے مطابق 10 سے 50 ملی گرام کی مقدار، غیر محفوظ جنسی تعلق کے بعد جتنی جلد ممکن ہو اور پانچ دن کے اندر استعمال ہونے پر، دستیاب دیگر ہنگامی مانع حمل طریقوں کی طرح مؤثر اور محفوظ ہو سکتی ہے۔ یہ طبی رہنما اصول ہیں اور کسی فرد کے لیے مخصوص علاج یا نسخے کا متبادل نہیں؛ مقامی قوانین، دوا کی دستیابی اور طبی حالات کے مطابق مشورہ درکار ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے بعض دیگر مصنوعات کے بارے میں محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔ ادارے نے اورمیلوکسفین سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت بتائی ہے تاکہ اسے خاندانی منصوبہ بندی کے عالمی پروگراموں میں وسیع طور پر شامل کرنے سے پہلے مؤثریت اور حفاظت کے شواہد مضبوط کیے جا سکیں۔ اسی طرح کوئنسٹرول پر مشتمل مانع حمل گولیوں کو قومی پروگراموں میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی گئی، کیونکہ دستیاب شواہد محدود ہیں اور سنگین منفی اثرات سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

ادارے نے مردانہ مانع حمل طریقوں کی محدود دستیابی کو بھی ایک اہم خلا قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پہلی مرتبہ مردانہ مانع حمل مصنوعات کے لیے ایک ہدفی پروڈکٹ پروفائل جاری کیا ہے جس کا مقصد محققین اور دوا ساز اداروں کو محفوظ، مؤثر، قابلِ واپسی اور قابلِ قبول آپشنز کی تیاری کے لیے مشترکہ معیار فراہم کرنا ہے۔ ادارے کے مطابق ہارمونل اور غیر ہارمونل دونوں اقسام کے متعدد طریقے کلینیکل تحقیق کے نسبتاً ترقی یافتہ مراحل میں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے حوالے سے ایک عالمی سروے میں تین چوتھائی سے زیادہ جوڑوں نے نئے مردانہ مانع حمل طریقوں میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ 85 فیصد سے زیادہ خواتین نے کہا کہ وہ اپنے مرد شریکِ حیات یا ساتھی پر ایسے طریقے کے استعمال کے معاملے میں اعتماد کریں گی۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ تحقیق کامیاب رہی تو آئندہ پانچ سے دس برس میں قابلِ واپسی مردانہ مانع حمل کے نئے آپشنز مارکیٹ تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم یہ پیش گوئی تحقیق، ریگولیٹری منظوری اور حفاظتی نتائج سے مشروط ہے۔

نئی ہدایات کا مقصد ممالک کو خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی، طبی تربیت اور خدمات میں تازہ شواہد شامل کرنے میں مدد دینا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے زور دیا ہے کہ مانع حمل طریقے کا انتخاب رضاکارانہ، باخبر اور فرد کی صحت و ترجیحات کے مطابق ہونا چاہیے، اور کسی بھی طریقے کی دستیابی یا استعمال مقامی ضوابط اور صحت نظام کی صلاحیت پر منحصر رہے گا۔