منیلا/مکاؤ: عالمی ادارۂ صحت کے مغربی بحرالکاہل خطے کے ممالک اور علاقوں نے 23 اور 24 ستمبر 2026 کو ایک بڑی علاقائی ہنگامی مشق مکمل کی، جس کا مقصد سرحد پار غذائی آلودگی یا فوڈ سیفٹی بحران کی صورت میں مختلف ممالک کے درمیان فوری معلوماتی رابطے اور مشترکہ ردعمل کی صلاحیت جانچنا تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق سالانہ ’آئی ایچ آر ایکسرسائز کرسٹل‘ اس بار پولٹری سپلائی چین میں ایک فرضی غذائی ہنگامی صورتحال کے گرد ترتیب دی گئی تھی۔

مشق میں بین الاقوامی صحت ضوابط، آئی ایچ آر 2005، کے قومی فوکل پوائنٹس نے انٹرنیشنل فوڈ سیفٹی اتھارٹیز نیٹ ورک، انفوسان، کے ایمرجنسی رابطہ مراکز کے ساتھ مل کر کام کیا۔ مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اگر ایک خوراک سے پیدا ہونے والا خطرہ ایک سے زیادہ ممالک تک پھیل جائے تو انسانی صحت اور خوراک کے تحفظ کے ادارے کتنی تیزی سے اطلاع، تصدیق، خطرے کی جانچ اور عملی رابطہ کر سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق مغربی بحرالکاہل خطے میں یہ مشق 2008 سے ہر سال منعقد کی جا رہی ہے۔ ماضی میں اس کے منظرناموں میں نئی سانس کی بیماریاں، تابکاری کے واقعات اور ابھرتے ہوئے وائرس شامل رہے ہیں۔ 2026 کی مشق نے فوڈ سیفٹی پر توجہ دے کر اس بات کی جانچ کی کہ مختلف شعبے ایک ہی واقعے کے دوران الگ الگ نظام چلانے کے بجائے مشترکہ طریقۂ کار کے تحت کس حد تک مؤثر کام کرتے ہیں۔

ادارے نے بتایا کہ یہ سرگرمی 2025 میں مغربی بحرالکاہل کے رکن ممالک کی جانب سے بین الاقوامی صحت ضوابط میں ترامیم پر عمل درآمد کے لیے منظور کیے گئے علاقائی منصوبے سے بھی جڑی ہے۔ اس منصوبے میں کثیر شعبہ جاتی رابطے، مستقبل کی وباؤں یا دیگر صحت ہنگامی حالات کے لیے تیاری اور ممالک کے درمیان تیز معلوماتی تبادلے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کی علاقائی ایمرجنسی ڈائریکٹر ڈاکٹر جینا سامان کے مطابق ایسی مشقیں حقیقی بحران سے پہلے نظام میں موجود کمزوریاں سامنے لانے، معلومات کی رفتار جانچنے اور عملی رکاوٹوں کی نشاندہی میں مدد دیتی ہیں۔ ادارے نے کہا کہ تیاری بہتر ہونے سے نہ صرف جانی نقصان کم کیا جا سکتا ہے بلکہ بڑے صحت بحران کے سماجی اور معاشی اثرات کو بھی محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

2026 کی مشق جولائی میں جکارتہ میں آسیان کے 11 رکن ممالک کی فوڈ سیفٹی ہنگامی مشق کے بعد ہوئی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق تازہ علاقائی مشق نے اسی تصور کو پورے مغربی بحرالکاہل تک پھیلایا اور قومی آئی ایچ آر فوکل پوائنٹس اور انفوسان رابطہ مراکز کو ایک مشترکہ نظام کے طور پر آزمایا۔

ادارہ اب اس مشق سے حاصل ہونے والی سفارشات کو قومی رابطہ مراکز اور فوڈ سیفٹی نیٹ ورکس کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے گا۔ یہ ایک فرضی مشق تھی، کسی حقیقی پولٹری آلودگی یا جاری غذائی وبا کی اطلاع نہیں؛ اس لیے اسے حقیقی بیماری پھیلنے کے واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔