اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کے ساتھ 20 ارب ڈالر کے طویل مدتی اصلاحاتی شراکت داری فریم ورک کے تحت طے شدہ پالیسی اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کے وفد اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے درمیان ملاقات میں دونوں فریقوں نے اصلاحات کے خاکے تیار کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایسے عملی اقدامات پر توجہ دینے پر اتفاق کیا جن کے نتائج معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری ماحول میں قابل پیمائش بہتری کی صورت میں سامنے آسکیں۔
ملاقات میں عالمی بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ زیر بحث اقدامات میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا، کاروباری اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی وسائل تک رسائی بڑھانا، مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت بہتر کرنا اور لیبر مارکیٹ کے نتائج میں بہتری شامل ہے۔
عالمی بینک کے وفد نے ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ کے امکانات اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کے لیے برآمدی مالیاتی مصنوعات کی تیاری سے متعلق تجاویز بھی پیش کیں۔ ان اقدامات کا مقصد اضافی تجارتی بہاؤ کو سہارا دینا اور پاکستانی کاروباروں کو مالیاتی وسائل اور بین الاقوامی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے نمائندوں نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے نفاذ اور ٹیرف اصلاحات کے لیے جاری تجزیاتی معاونت کا بھی جائزہ لیا۔ اس میں آٹو موٹیو شعبے سے متعلق کام اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات شامل ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تجارتی پالیسی اور ضابطہ جاتی تبدیلیوں کو مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور عالمی ویلیو چینز میں پاکستان کی شمولیت بڑھانے کے وسیع اہداف سے جوڑا جائے۔
20 ارب ڈالر کی شراکت داری ایک کثیر سالہ فریم ورک ہے، اس لیے پوری رقم کو فوری نقد ادائیگی یا ایک ہی منصوبے کی فنانسنگ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے تحت مختلف شعبوں میں مرحلہ وار پروگرام، پالیسی اقدامات اور ترقیاتی منصوبے شامل ہوسکتے ہیں، جن کی پیش رفت مخصوص شرائط اور منظوریوں سے منسلک ہوتی ہے۔ تازہ ملاقات میں بنیادی توجہ اس بات پر رہی کہ پہلے سے شناخت شدہ اصلاحات کو عملی سطح پر کیسے نافذ کیا جائے۔
پاکستان کے لیے اس ایجنڈے کی کامیابی کا انحصار ضابطہ جاتی تبدیلیوں کے تسلسل، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی، نجی شعبے کے ردعمل اور اصلاحات کے قابل پیمائش نتائج پر ہوگا۔ عالمی بینک اور وزارت خزانہ کی گفتگو سے واضح ہے کہ اگلا مرحلہ صرف پالیسی اعلانات کے بجائے سرمایہ کاری، روزگار، ایس ایم ای فنانس اور تجارت میں عملی اثرات پیدا کرنے پر مرکوز رکھا جا رہا ہے۔
