اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ تقریباً 20 ارب ڈالر کے دس سالہ اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری فریم ورک کے تحت طے شدہ پالیسی اقدامات کے عملی نفاذ کو تیز کیا جائے۔ عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات میں ترقی، روزگار، مالیاتی نظم، محصولات، تجارت، سرمایہ کاری، کیپٹل مارکیٹس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اصلاحات کے ڈیزائن سے آگے بڑھ کر ایسے عملی اقدامات پر توجہ دی جائے جن کے نتائج معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری ماحول میں قابل پیمائش بہتری کی صورت میں سامنے آئیں۔ عالمی بینک کا 2025 سے 2035 تک کا کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک رعایتی اور تجارتی مالیاتی سہولتوں سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر کی مجموعی معاونت سے منسلک ہے۔
ملاقات میں مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن، سرمایہ کاری کے ماحول، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے فنانس تک رسائی، شعبہ جاتی پیداواری صلاحیت اور لیبر مارکیٹ کے نتائج پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے لیے برآمدی فنانس مصنوعات، متحدہ دیوالیہ پن فریم ورک، فیکٹرنگ قانون سازی اور ایس ایم ای فنانسنگ کے ضوابط بھی زیر بحث آئے۔
محصولات کے شعبے میں سیلز ٹیکس کے قواعد، تعریفوں اور خدمات کی درجہ بندی میں وفاقی و صوبائی ہم آہنگی، زرعی انکم ٹیکس قوانین کے نفاذ، ڈیجیٹل رجسٹریشن و ادائیگی اور صوبائی پراپرٹی ٹیکس کی ویلیوایشن بہتر بنانے پر بات ہوئی۔ قومی ٹیرف پالیسی، آٹو سیکٹر سے متعلق ٹیرف اصلاحات اور عالمی ویلیو چینز میں پاکستان کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔
عالمی بینک نے ادویات، طبی مصنوعات اور زراعت میں بھی مجوزہ اصلاحات کا ذکر کیا، جن میں بیجوں کی رجسٹریشن، بعض اجناس کے ضوابط اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن شامل ہیں۔ دونوں جانب سے ادارہ جاتی صلاحیت، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، قرض مینجمنٹ اور مقامی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے پر تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ ملاقات کسی نئی 20 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کا اعلان نہیں بلکہ پہلے سے قائم طویل مدتی شراکت داری کے تحت اصلاحاتی عمل کے نفاذ کا جائزہ تھی۔

