پاکستانی روبوٹکس ڈیٹا کمپنی ورلڈ کانٹیکسٹ نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں اپنا پہلا روبوٹکس ہیکاتھون منعقد کیا، جس میں 13 ٹیموں نے ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور ویژولائزیشن کے شعبوں میں مختلف منصوبے تیار کیے۔ جیو نیوز کی 27 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق یہ ایونٹ Blockchain at Berkeley کے تعاون سے منعقد ہوا اور اسے Google Gemini، ElevenLabs، The Hackathon Company، Lovable، Praxis Robotics اور UC Berkeley Startup سمیت متعدد اداروں کی معاونت حاصل تھی۔

شرکا کو ورلڈ کانٹیکسٹ کے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹس استعمال کرتے ہوئے ایسے پروجیکٹس بنانے کا موقع دیا گیا جو حقیقی دنیا میں انسانی سرگرمیوں اور روبوٹکس کے درمیان تعلق کو سمجھنے یا خودکار نظام تیار کرنے میں مدد دے سکیں۔ ہارڈویئر ٹریک میں Sortbot نامی منصوبے نے کامیابی حاصل کی، جس کا مقصد مختلف اقسام کی اشیا کو شناخت کر کے الگ کرنے والے روبوٹس بنانا تھا۔ سافٹ ویئر اور ویژولائزیشن ٹریکس میں Reconstructors نامی ٹیم کے منصوبے نمایاں رہے۔

ایونٹ میں مجموعی طور پر 4,500 ڈالر کے نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ ہیکاتھون کا ایک اہم موضوع human demonstration data تھا، یعنی ایسا ڈیٹا جو حقیقی ماحول میں انسانوں کے کام کرنے کے طریقے کو ریکارڈ کرتا ہے۔ روبوٹکس اور embodied AI میں اس نوعیت کے ڈیٹا کو اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ اس سے الگورتھمز کو صرف ڈیجیٹل معلومات نہیں بلکہ جسمانی دنیا میں کام کی ترتیب، اشیا کے استعمال اور انسانی حرکات کے نمونے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ورلڈ کانٹیکسٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شیردل علی خان نے کہا کہ برکلے میں پیش کیے گئے منصوبوں کے معیار نے کمپنی کو امریکی جامعات اور ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ مزید تعاون کے امکانات دکھائے ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی مستقبل میں دوسری جامعات کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے پروگرام منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ کمپنی کا بیان ہے اور آئندہ شراکت داریوں کی نوعیت یا پیمانہ متعلقہ اداروں کے باضابطہ معاہدوں سے واضح ہوگا۔

پاکستان کے لیے اس ایونٹ کی اہمیت اس پہلو سے ہے کہ مقامی ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک معروف امریکی یونیورسٹی میں روبوٹکس ڈیٹا اور عملی مصنوعی ذہانت کے موضوع پر اپنا ایونٹ منعقد کیا۔ تاہم اسے پاکستان کی مجموعی روبوٹکس صنعت کے حجم یا عالمی مسابقت کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے باوجود یہ واقعہ پاکستانی ٹیک کمپنیوں کے لیے تحقیق، ڈیٹا خدمات اور بین الاقوامی تعلیمی شراکت داری کے بڑھتے مواقع کی ایک عملی مثال فراہم کرتا ہے۔