بیجنگ: چین نے تصدیق کی ہے کہ صدر شی جن پنگ 23 سے 25 ستمبر 2026 تک امریکا کا سرکاری دورہ کریں گے اور اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوں گے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنما چین امریکا تعلقات سے متعلق اہم امور اور عالمی امن و ترقی کے سوالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہورہا ہے جب دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور وسیع تر اسٹریٹجک معاملات پر اختلافات اور رابطے بیک وقت جاری ہیں۔

بیجنگ کے ترجمان گوو جیاکون نے کہا کہ چین امریکا کے ساتھ تعلقات میں ’’تعمیری اسٹریٹجک استحکام‘‘ کو مضبوط بنانے، اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے اور تعاون کے قابل شعبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ دوسری جانب امریکی حکام پہلے ہی دونوں صدور کی ملاقات کی تیاریوں کی تصدیق کرچکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں تجارتی تنازعات، مصنوعی ذہانت سے متعلق مسابقت اور موجودہ بین الاقوامی بحرانوں، بشمول ایران سے متعلق صورتحال، پر بات چیت متوقع ہے۔

یہ ملاقات چین اور امریکا کے درمیان ان رابطوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے دونوں حکومتیں شدید اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی رقابت کے باوجود براہ راست اعلیٰ سطحی مواصلات برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ٹیرف، جدید سیمی کنڈکٹرز، برآمدی پابندیوں، ٹیکنالوجی تک رسائی اور سلامتی کے مختلف معاملات دونوں ملکوں کے تعلقات میں نمایاں تنازعات رہے ہیں۔ موجودہ دورے کے ایجنڈے میں کن معاملات پر کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جائے گا، اس بارے میں دورے سے قبل کوئی جامع مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

چینی حکومت نے دورے کو عالمی امن اور ترقی سے متعلق بڑے مسائل پر براہ راست تبادلہ خیال کا موقع قرار دیا ہے۔ امریکی فریق بھی ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے انتظام اور ممکنہ تعاون کی گنجائش کا جائزہ لینے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ تاہم کسی ممکنہ تجارتی رعایت، ٹیکنالوجی معاہدے یا دیگر نتیجے کے بارے میں پیشگی دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ مذاکرات ابھی ہونا باقی ہیں۔

شی جن پنگ کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ بدھ سے جمعہ تک جاری رہے گا۔ دونوں صدور کی ملاقات کے بعد سامنے آنے والے سرکاری بیانات، مشترکہ اعلانات یا پالیسی فیصلے ہی اس دورے کے عملی نتائج کی حتمی بنیاد ہوں گے۔