صنعا: یمن کے حوثی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی شہر الحزم میں ایک مصروف بازار پر سعودی قیادت والے اتحاد کے فضائی حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔ حوثی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ ہلاکتیں حوثی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں اور سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے فوری طور پر اس مخصوص حملے کی تصدیق یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الگ واقعے میں حوثیوں پر عدن کے ہوائی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا، جس کے نتیجے میں انخلا اور بعض پروازوں کا رخ موڑنے کے اقدامات کیے گئے۔ حوثیوں نے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی تنبیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں فوری آزاد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
حوثی ذرائع ابلاغ نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے قریب میون جزیرے پر بھی اتحادی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔ اس رپورٹ پر بھی اتحاد کی جانب سے فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ یمن میں متحارب فریقوں کے دعوے اکثر جنگی حالات اور محدود آزاد رسائی کے باعث فوری طور پر آزاد ذرائع سے تصدیق کے قابل نہیں ہوتے، اس لیے ذمہ داری اور نقصانات سے متعلق معلومات کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرنا ضروری ہے۔
اسی دوران یمنی حکام نے تعز کی بگڑتی انسانی صورتحال پر بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے، جہاں لڑائی اور حوثی محاصرے کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت اور پانی تک رسائی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تازہ واقعات اس وسیع علاقائی کشیدگی کا حصہ ہیں جس میں یمن کے اندرونی تنازع کے ساتھ سعودی عرب، بحیرہ احمر کی جہاز رانی اور مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ کے اثرات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ شہری علاقوں میں حملوں اور بنیادی ڈھانچے کی بندش سے انسانی نقصان بڑھنے کا خطرہ برقرار ہے۔
