جنیوا: عالمی غذائی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے باعث خوراک کا بحران تیزی سے بگڑ رہا ہے اور حکومتی کنٹرول والے ان علاقوں میں، جہاں ادارے کو رسائی حاصل ہے، خوراک کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکنے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں عدم تحفظ بڑھنے کے ساتھ دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں اور امدادی اداروں کو مزید انسانی ضروریات کا سامنا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے پروگرام آپریشنز میتھیو ہولنگ ورتھ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومتی زیر کنٹرول علاقوں میں ہر چار میں سے تین گھرانے کھانے چھوڑ رہے ہیں۔ ان علاقوں کی مجموعی آبادی تقریباً ایک کروڑ بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تازہ کشیدگی کے خوراک کی سلامتی پر اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ یہ اعداد ڈبلیو ایف پی کی رسائی والے حکومتی علاقوں سے متعلق ہیں اور پورے یمن کی آبادی کا جامع شمار نہیں۔
یمن میں سعودی عرب اور ایران سے منسلک حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی ایسے وقت بڑھی ہے جب 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سرحد پار حملوں میں بڑی حد تک کمی آئی تھی۔ تازہ لڑائی نے انسانی بحران کے ساتھ سیاسی اور علاقائی خطرات بھی بڑھائے ہیں، کیونکہ یمن بحیرہ احمر کی اہم جہاز رانی گزرگاہوں اور باب المندب کے قریب واقع ہے۔
جنگ کے باعث نقل مکانی خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولتوں پر دباؤ بڑھاتی ہے۔ امدادی اداروں کے لیے رسائی میں رکاوٹ اور رسد کی لاگت بڑھنے سے بحران مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کی تازہ تنبیہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ غذائی عدم تحفظ صرف طویل مدتی غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ سکیورٹی صورتحال سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔
یمن کئی برس سے دنیا کے شدید انسانی بحرانوں میں شامل رہا ہے۔ تازہ اعداد میں ریکارڈ سطح کی بھوک کا حوالہ خاص طور پر ان حکومتی علاقوں کے لیے ہے جہاں ڈبلیو ایف پی نگرانی اور امدادی کام کر سکتا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں صورتحال کے لیے الگ ڈیٹا اور رسائی کی حدود موجود ہیں، اس لیے مجموعی قومی تصویر بناتے وقت اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
