مسلسل اپ ڈیٹس

بنگلہ دیش: گارمنٹس مزدور احتجاج اور ویج بورڈ کا اعلان

بنگلہ دیشی حکومت نے کئی روز تک جاری گارمنٹس مزدوروں کے احتجاج، فیکٹری بندشوں اور پولیس جھڑپوں کے بعد اجرتی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے لیے ویج بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مزدور تنظیمیں کم از کم ماہانہ اجرت 30,000 ٹکہ کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ موجودہ کم از کم اجرت 12,500 ٹکہ ہے۔ ڈھاکہ کے مضافاتی صنعتی علاقے اشولیا میں ہفتے کے روز احتجاج کے باعث تقریباً 30 فیکٹریاں بند رہیں اور دارالحکومت میں مرکزی راستے بند ہونے، احتجاجی مظاہروں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات آئیں؛ اشولیا میں آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈ استعمال کیے جانے کی رپورٹیں اور متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ محنت و روزگار کے وزیر نے کہا ہے کہ بورڈ مزدور رہنماؤں اور صنعت نمائندوں سے مشاورت کے بعد تشکیل پائے گا، تاہم حکومت نے ابھی نئی کم از کم اجرت کی حتمی رقم مقرر نہیں کی؛ ویج بورڈ کی تشکیل مذاکراتی فریم ورک کی پہلی رسمی کوشش قرار دی گئی ہے۔ تیار ملبوسات کا شعبہ بنگلہ دیش کی معیشت کے لیے اہمیت رکھتا ہے (تقریباً 40 لاکھ افراد ملازمت، برآمدی آمدنی کا 80 فیصد سے زائد حصہ، GDP کا تقریباً 10 فیصد) اور طویل بندش سے برآمدی آرڈرز اور خریداروں سے ادائیگیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ صنعتی نمائندے پیداواری لاگت، توانائی کی قلت اور بین الاقوامی توانائی عدم استحکام کے حوالہ سے شعبے کے چیلنجز کا ذکر کر رہے ہیں۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

بنگلہ دیش: گارمنٹس مزدور احتجاج اور ویج بورڈ کا اعلان | اردو ہیڈ لائنز