مسلسل اپ ڈیٹس

بی آئی ایس پی میں تقریباً 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں

قومی اسمبلی میں وزارتِ تخفیفِ غربت کی پیش کردہ دستاویزات کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں تقریباً 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ریکارڈ میں بتایا گیا کہ 140,488 سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے وہ ادائیگیاں وصول کیں جو مستحق خاندانوں کے لیے مختص تھیں جبکہ اب تک مجموعی طور پر تقریباً 710 ملین روپے واپس لیے گئے ہیں۔ ریکوری میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ذریعے تقریباً 540 ملین، دیگر سرکاری محکموں 145 ملین اور بی آئی ایس پی نے اپنے ملازمین سے 21.5 ملین روپے وصول کیے۔ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ بعض بے ضابطگیاں 2019 میں شناخت ہوئیں مگر اس کے بعد بھی ادائیگیاں جاری رہیں؛ مالی سال 2019‑20 میں سرکاری ملازمین و پنشنرز کو 23.13 ارب روپے کی ادائیگی ریکارڈ ہے اور شناخت کے بعد مزید لگ بھگ 90 کروڑ روپے ادا ہونے کا ذکر بھی شامل ہے۔ بی آئی ایس پی کے 236 ملازمین کے بھی رقوم وصول کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے، متعلقہ افراد کا ریکارڈ متعلقہ محکموں کو بھیجا گیا ہے اور حکومت نے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین و پنشنرز کے ریکارڈ کی مزید جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے