مسلسل اپ ڈیٹس

سندھ: زمین و پانی کے جامع وسائل کا مربوط جائزہ — ایف اے او

اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کی رپورٹ نے سندھ میں زمین اور پانی کے انتظام کو متعدد اداروں، مختلف طریقۂ کار اور تہہ در تہہ قواعد کی وجہ سے پیچیدہ قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو بارش، زیرِ زمین پانی، نہری بہاؤ، جھیلیں، ڈیم، ذخائر اور دریائی بہاؤ سمیت تمام دستیاب آبی وسائل کا ایک مربوط اور جامع جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ نے ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی، مختلف ڈیٹا جمع کرنے والے یونٹس کے طریقۂ کار میں فرق اور کراپ رپورٹنگ سروس کی بہتری کی ضرورت نمایاں کی؛ اس کے علاوہ جھیلوں، ڈیموں اور نکاسی آب کے نیٹ ورکس کو آبپاشی نظام کے ساتھ مربوط انداز میں دیکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایف اے او نے کہا ہے کہ سفارشات پالیسی و تکنیکی نوعیت کی ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے صوبائی محکموں، آبپاشی اداروں، زرعی ڈیٹا یونٹس اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے درکار ہوں گے۔ رپورٹ نے سندھ میں زیرِ زمین پانی کے معیار، نکاسی آب اور سمندری پانی کی پیش قدمی جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محدود آبی وسائل کو ایک مربوط فریم ورک میں سمجھنا زراعت، ماحول اور آبادی کی ضروریات کے درمیان پائیدار توازن کے لیے ضروری ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے