مسلسل اپ ڈیٹس

وفاقی آئینی عدالت: توہینِ عدالت، ازخود نوٹس اور نظرثانی کے نئے قواعد (اکتوبر 2026)

وفاقی آئینی عدالت نے اکتوبر 2026 میں اپنے نئے قواعد عام کیے جن میں توہینِ عدالت کی کارروائی، ازخود نوٹس، اور فیصلوں کے خلاف نظرثانی درخواستوں کے طریقۂ کار کو وضع کیا گیا ہے۔ قواعد کے مطابق کوئی شہری توہینِ عدالت کی درخواست دے سکتا ہے اور عدالت خود بھی ازخود کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ نظرثانی درخواست کے لیے درخواست گزار کو 50 ہزار روپے بطور سکیورٹی جمع کرانی ہوگی اور اگر درخواست مسترد یا بے بنیاد قرار پائی تو یہ رقم ضبط کی جا سکتی ہے؛ وکیل کے خلاف بدنیتی کے الزامات کی صورت میں کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ کوشش یہ رکھی گئی ہے کہ نظرثانی وہی بینچ سنے جس نے اصل فیصلہ دیا تھا اور دوبارہ نظرثانی (second review) قابلِ قبول نہیں ہوگی؛ رجسٹری ایسی درخواست وصول نہیں کرے گی۔ قواعد کی تشریح اور اطلاق آئندہ مقدمات، رجسٹری کے فیصلوں اور عدالتی احکامات کے ذریعے مزید واضح ہوگا۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

وفاقی آئینی عدالت: توہینِ عدالت، ازخود نوٹس اور نظرثانی کے نئے قواعد (اکتوبر 2026) | اردو ہیڈ لائنز