مسلسل اپ ڈیٹس

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ممکنہ وسیع نقل مکانی — آئی او ایم کی وارننگ

اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے نئی دہلی کے دورے کے دوران خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں روزگار، خوراک اور رہائش کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پیدا کر رہی ہے اور بدترین منظرنامے میں 2050 تک جنوبی ایشیا میں 4 کروڑ 5 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ پوپ نے بڑھتی سطحِ سمندر، سیلاب اور خشک سالی کو گھروں اور زرعی زمین کے لیے بڑے خطرات قرار دیا اور کہا کہ جب خاندان خوراک پیدا کرنے یا مویشی پالنے کے قابل نہ رہیں تو نقل مکانی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے عالمی مالی وسائل کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور موسمیاتی موافقت کے لیے بہتر اعدادوشمار، موسمی پیش گوئی، مصنوعی ذہانت، بہتر زرعی طریقے، متبادل روزگار کی تربیت، قبل از وقت انتباہی نظام اور متاثرہ آبادیوں کی منصوبہ بند منتقلی جیسے اقدامات تجویز کیے۔ 4 کروڑ 5 لاکھ کا عدد بدترین منظرنامے پر مبنی علاقائی تخمینہ ہے، حتمی پیش گوئی نہیں، اور حقیقی نقل مکانی اخراج، موافقت، شہری منصوبہ بندی، روزگار اور حکومتوں کی تیاری جیسے متعدد عوامل پر منحصر ہوگی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ممکنہ وسیع نقل مکانی — آئی او ایم کی وارننگ | اردو ہیڈ لائنز