مسلسل اپ ڈیٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ کا شیشہ کیفوں کو قواعد بننے تک بند رکھنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ (ہُکا/شیشہ) کیفوں کے ضابطہ کار کو حتمی شکل دینے تک تمام ایسے کاروباری مراکز بند رکھنے کا حکم دیا ہے اور فیصلہ کیا کہ قواعد بننے تک پہلے جاری کردہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سیز) بھی 'واپس تصور' کیے جائیں گے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے وفاقی حکومت کی طرف سے 2023 کے شیشہ رولز کے مسودے کو حتمی شکل دینے میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش ظاہر کی، بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے مسودہ مختلف اوقات میں ترامیم کے لیے وزارت کو واپس بھیجا مگر ضابطے مکمل نہیں ہوئے، اور متعلقہ حکام کو ضابطہ کار جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کو حکم کی پابندی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی۔ فیصلے میں 2022 کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق حکم اور سپریم کورٹ کے 2016 کے ازخود نوٹس کا حوالہ بھی دیا گیا، اور عالمی ادارۂ صحت کے حوالوں کے ساتھ شیشہ نوشی کے ممکنہ صحتی خطرات (نکوٹین، کاربن مونو آکسائیڈ وغیرہ) بھی نوٹ کیے گئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ عبوری انتظامی حکم مستقل پابندی نہیں بلکہ ضابطہ جاتی خلا کے دوران انتظامی نفاذ کو واضح کرتا ہے؛ آئندہ لائسنس، مقام اور صحت و حفاظت کے معیار شفاف ضابطوں کے تحت طے ہوں گے۔ فوری طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ این او سیز کی بنیاد پر شیشہ کیفے سرگرمی جاری نہیں رکھ سکیں گے اور متعلقہ انتظامیہ بندش یقینی بنائے گی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے