مسلسل اپ ڈیٹس

اسلام آباد: PET بوتلوں کے استعمال اور پلاسٹک فری منصوبے پر حکومت‑صنعت مذاکرات

اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور بڑی خوراک و مشروبات کمپنیوں (نیسلے، کوکا کولا، پیپسی کو، میٹرو وغیرہ) کے درمیان PET بوتلوں کے استعمال اور متبادل پیکیجنگ کے بارے میں مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمپنی نمائندوں سے ملاقات کی جبکہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ اسلام آباد سنگل یوز پلاسٹکس ضوابط 2023 میں PET بوتلیں ممنوعہ فہرست میں شامل نہیں ہیں اور انہیں فروخت سے روکا نہیں گیا۔ ضوابط میں 2028 سے مشروبات کی بوتلوں میں کم از کم 50 فیصد ری سائیکل شدہ پلاسٹک استعمال کرنے کی شرط شامل ہے۔ صنعت نے فوری طور پر شیشے یا کاغذی پیکیجنگ پر منتقل ہونا تجارتی طور پر مشکل قرار دیا اور ممکنہ وفاقی ٹیکس آمدن میں کمی کا تخمینہ (تقریباً 10 ارب روپے) بھی پیش کیا — یہ صنعت کا تخمینہ ہے اور سرکاری تصدیق شدہ نہیں۔ حکومت نے کمپنیوں کو قابلِ عمل متبادل حل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، متعلقہ اداروں (مثلاً امریکن بزنس فورم اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر) نے بھی معاملہ اٹھایا، اور آئندہ ہفتے قانونی، ماحولیاتی اور تجارتی پہلوؤں پر تکنیکی اجلاس متوقع ہے۔ فی الحال کوئی نئی پابندی نافذ نہیں ہوئی اور معاملہ مذاکراتی مرحلے میں ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے