مسلسل اپ ڈیٹس

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور وفاقی وزیر دفاع کے اعتراضات

وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کی بڑھتی ہوئی امن و امان اور دہشت گردی کے حالات کے پیش نظر صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر سخت تنقید کی اور اہم فیصلے کرنے کا مطالبہ کیا۔ خواجہ آصف نے 6 اکتوبر کے ڈیرہ اسماعیل خان حملے کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکام کے ردعمل پر سوال اٹھائے اور الزام لگایا کہ صوبائی حکومت سکیورٹی کے بجائے سیاسی لانگ مارچ پر توجہ دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے گورنر کے بلائے گئے سکیورٹی اجلاس کو غیر آئینی قرار دیا اور ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لینے کا اعلان کیا۔ وزیر دفاع کے بعض الفاظ جیسے ’طالبان اتحادی‘ اور ’گٹھ جوڑ‘ رپورٹ میں الزامات کے طور پر درج ہیں جن کی آزادانہ یا عدالتی طور پر تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں۔ صوبے میں بڑھتے حملے، صوبائی و وفاقی حکومت کے سکیورٹی پالیسی پر اختلاف اور سیاسی احتجاج نے کشیدگی بڑھا دی ہے؛ آئندہ انتظامی یا آئینی اقدامات سرکاری فیصلوں اور قانونی عمل کے بعد واضح ہوں گے۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور وفاقی وزیر دفاع کے اعتراضات | اردو ہیڈ لائنز