مسلسل اپ ڈیٹس

لاہور ہائیکورٹ: قتل کے مقدمے میں بریت اور سزا کے اطلاق پر عدالتی سفارشات

لاہور ہائیکورٹ نے محمد آصف کو ایک قتل کے مقدمے میں دی گئی عمر قید کی سزا منسوخ کر کے بری کر دیا، قرار دیا گیا کہ استغاثہ نے جرم کو ’شک سے بالاتر‘ ثابت نہیں کیا۔ عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر، عینی گواہوں کی غیر تسلی بخش حاضری، ملزم کا ابتدائی ایف آئی آر میں نا ہونا، طبی شواہد کی محدودیت اور موٹر سائیکل/پولیس ریکارڈ جیسے شواہد کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ بعد میں پیش کیے گئے ایسے ثبوت جو ٹرائل کے دوران قانونی تقاضوں کے مطابق سامنے نہیں رکھے گئے، سزا برقرار رکھنے کے لیے قابلِ استعمال نہیں۔ اسی روز ہائیکورٹ کے ایک الگ فیصلے میں جسٹس محمد امجد رفیق نے ان مقدمات (جن میں عمر قید ممکنہ سزا ہے) کو پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 کے منظم sentencing framework میں شامل کرنے، Sentencing Council کے قیام اور باقاعدہ sentencing hearing کو لازمی قرار دینے کی تجاویز پیش کیں؛ ایک دوسرے کیس میں عدالت نے سزا کو پہلے سے گزاری گئی مدت تک محدود کرتے ہوئے مقتول کے ورثا کے لیے معاوضہ پانچ لاکھ روپے مقرر رکھا۔ یہ سفارشات قانون میں تبدیلی کے لیے متعلقہ قانون سازی اور عملداری کی متقاضی ہیں۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

لاہور ہائیکورٹ: قتل کے مقدمے میں بریت اور سزا کے اطلاق پر عدالتی سفارشات | اردو ہیڈ لائنز