مسلسل اپ ڈیٹس

LUMS تحقیق: پاکستان میں اجتناب پذیر توانائی درآمدات اور توانائی کارکردگی

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) انرجی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی، عمارتوں کے توانائی معیارات کے سست نفاذ اور مقامی مینوفیکچرنگ کی کمی کے باعث پاکستان سالانہ تقریباً 3.5 ٹریلین روپے کی ‘‘قابلِ اجتناب’’ توانائی درآمدی اور نظامی لاگت برداشت کر رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کی نصب بجلی پیداوار صلاحیت 36 ہزار میگاواٹ سے زائد ہونے کے باوجود 2015‑2023 کے دوران بنیادی بجلی طلب تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کے قریب رہی، اور سردیوں میں گھروں کی حرارتی ضرورت پوری کرنے کے لیے تقریباً 2.7 ارب ڈالر کی مائع قدرتی گیس درآمد کی جاتی ہے جبکہ بجلی کی صلاحیت غیر استعمال رہتی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وفاقی بلڈنگ کوڈ (2023) کے مؤثر نفاذ سے کولنگ لوڈ 51 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، اور صرف 25 فیصد رہائشی عمارتوں میں توانائی کارکردگی بہتر کرنے سے چوٹی کی طلب تقریباً 3,000 میگاواٹ کم ہو سکتی ہے اور سالانہ توانائی خرچ میں 442.6 ارب روپے تک بچت ممکن ہے۔ پاور سیکٹر کے مقامی مینوفیکچرنگ مواقع کو 1.1 ٹریلین روپے تک تخمینہ لگایا گیا جبکہ متوقع طلب تقریباً 1.9 ٹریلین تھی۔ تحقیقی اعداد و ماڈلز پر مبنی یہ 3.5 ٹریلین کا تخمینہ حکومتی آڈٹ سے ثابت شدہ نقصان نہیں بتاتا اور حقیقی مالی فوائد صوبائی بلڈنگ کوڈز کے نفاذ، مربوط ایندھن/بجلی منصوبہ بندی اور مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت پر منحصر ہوں گے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے