مسلسل اپ ڈیٹس

ماہ رنگ بلوچ کے بغاوت و انسدادِ دہشت گردی مقدمات — عدالتیں اور اپیلیں

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے ایک بغاوت و انسدادِ دہشت گردی مقدمے میں 2025 کی بریت کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ ابتدائی ایف آئی آر قائدآباد پولیس نے 11 اکتوبر 2024 میں ایک نجی شہری کی شکایت پر درج کی تھی اور اس میں دفعہ 7 انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت بغاوت، ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع وغیرہ کے مظاہرے شامل تھے۔ کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بعد ازاں ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 265‑K کے تحت ماہ رنگ بلوچ کی بریت منظور کی، جس کے خلاف صوبائی حکومت نے دسمبر 2025 میں سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پیر کی سماعت دو رکنی بینچ (جسٹس شمس الدین عباسی؛ جسٹس میران محمد شاہ) نے کی؛ عدالت نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ جب اصل مدعی ایک نجی شخص تھا تو بریت کے خلاف ریاستی اپیل کس حیثیت میں دائر کی گئی۔ ہائیکورٹ نے اپیل کو قابلِ سماعت نہ سمجھا اور خارج کردیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ صرف مذکورہ کراچی مقدمے اور 2025 کی بریت سے متعلق ہے؛ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف کوئٹہ میں دیگر مقدمات اور اُن کی اپیلیں علیحدہ ہیں (جون میں کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک الگ کیس میں انہیں عمر قید سنائی تھی اور اُس سزا کے خلاف اپیل بلوچستان ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہے).

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

ماہ رنگ بلوچ کے بغاوت و انسدادِ دہشت گردی مقدمات — عدالتیں اور اپیلیں | اردو ہیڈ لائنز