مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان میں مقامی ویکسین سازی — بایو فارما تعاون

وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے فارما ایشیا 2026 میں کہا ہے کہ پاکستان انڈونیشیا کی سرکاری دوا ساز کمپنی بایو فارما کے ساتھ ٹیکنالوجی منتقلی کے ذریعے ابتدائی طور پر تین ویکسینیں ملک میں مقامی طور پر تیار کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔ انڈونیشی ٹیم نے حال ہی میں پاکستان کے سہولتوں کا معائنہ کیا اور انڈونیشیا کے وزیرِ صحت بودی گنادی سادیکن اس تعاون میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت بایو فارما سے 13 ویکسین درآمد کرتا ہے اور حکومت ملک کی پہلی ویکسین پالیسی کی منظوری کے قریب ہے جس کا مقصد درآمدی انحصار کم کرنا اور ویکسین کی دستیابی پائیدار بنانا بتایا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں وفاقی حکومت نے مقامی طور پر فعال ادویاتی اجزا (API) کی پیداوار کے لیے تقریباً 4 سو ملین ڈالر کے معاہدے بھی کیے ہیں جن کے تحت سہولتیں ڈیڑھ تا دو سال میں مرحلہ وار کام شروع کر سکتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 700 سے زائد دوا ساز کمپنیاں ہیں مگر خام مال کا بڑا حصہ درآمد ہوتا ہے، اور عالمی رعایتی فراہمیوں میں کمی کی صورت میں 2031 تک ویکسین خریداری کا سالانہ تخمینہ 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ باضابطہ معاہدے کے بعد پیداوار کی شروعات کی حتمی تاریخ اور منتخب تین ویکسینوں کی تفصیل واضح کی جائیں گی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے