مسلسل اپ ڈیٹس

طبی تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال بمقابلہ ایف بی آر چھاپے اور ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پرائیویٹ ہاسپٹل اینڈ کلینکس ایسوسی ایشن اور دیگر طبی تنظیموں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نجی کلینکس پر چھاپوں اور مبینہ طبی غفلت کے معاملات میں ڈاکٹروں کے خلاف براہِ راست فوجداری دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے یکم اور 2 نومبر کو دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تنظیموں نے ایمرجنسی سروسز برقرار رکھنے مگر معمول کی طبی سہولیات معطل رکھنے کا ارادہ بتایا۔ مطالبات میں ایف بی آر کی جانب سے کلینکس کو ریٹیل پوائنٹ‑آف‑سیل کی طرز پر دیکھنے کے نفاذ پر اعتراض، مبینہ طبی غفلت کے ضمن میں براہِ راست سنگین فوجداری دفعات کے تحت ایف آئی آر درج نہ کرنے اور مقدمے سے قبل ایک آزاد طبی بورڈ کا جائزہ شامل ہیں۔ تنظیمیں پارلیمان سے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ اور اسپتالوں/کلینکس میں قانونی و جسمانی تحفظ بہتر کرنے کا بھی مطالبہ کر چکی ہیں۔ ہڑتال کا دائرۂ کار صوبوں اور اداروں میں طبی عملے کی شرکت کے مطابق متغیر ہوگا، اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مرکزی کونسل کے 28 نومبر اجلاس میں طویل مدتی لائحہ عمل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے؛ حکومت‑نمائندہ مذاکرات کی صورت میں فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

طبی تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال بمقابلہ ایف بی آر چھاپے اور ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات | اردو ہیڈ لائنز