مسلسل اپ ڈیٹس

جی ایم مکئی: نیشنل بایوسیفٹی کمیٹی کا بایوسیفٹی جائزہ

اسلام آباد: نیشنل بایوسیفٹی کمیٹی نے زرعی بائیوٹیکنالوجی کی متعدد درخواستوں کا جائزہ شروع کیا ہے جن میں طویل عرصے سے زیرِ التوا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت قومی ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری کے بعد سامنے آئی اور پالیسی کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک مضبوط کرنے کی کوششوں سے منسلک بتائی گئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ابھی تک زیرِ التوا جی ایم مکئی لائسنسوں کی حتمی منظوری یا تجارتی اجرا کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں ہوا؛ کمیٹی کا کام قانونی اور سائنسی تقاضوں کے مطابق درخواستوں کا جائزہ لینا ہے۔ کراپ لائف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رشید احمد نے کہا کہ منظوری زرعی بائیوٹیکنالوجی کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، البتہ حقیقی اثر مخصوص ٹیکنالوجی، مقامی زرعی حالات اور ضوابط پر منحصر ہوگا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

جی ایم مکئی: نیشنل بایوسیفٹی کمیٹی کا بایوسیفٹی جائزہ | اردو ہیڈ لائنز