مسلسل اپ ڈیٹس

قومی انسدادِ پولیو مہم

صحت ٹیمیں ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کے دوران گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے والدین سے ہر اہل بچے کی ویکسینیشن یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ مہم میں ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز، نگران عملہ اور سکیورٹی اہلکار مختلف اضلاع میں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ موبائل اور ٹرانزٹ ٹیمیں نقل و حرکت کرنے والے بچوں تک رسائی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ وائرس کی نگرانی میں انسانی کیسز کے ساتھ سیوریج (ماحولیاتی) نمونوں کی بھی جانچ شامل ہے۔ حکام نے بار بار خوراکوں کی ضرورت، سکیورٹی، دور دراز آبادیوں تک رسائی اور والدین کے انکار کو مہم کے چیلنجز قرار دیا اور کہا ہے کہ مہم کے اختتام پر کوریج کے اعداد و شمار اور چھوٹ جانے والوں کی نشاندہی کی بنیاد پر فالو اپ سرگرمیاں کی جائیں گی۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے