مسلسل اپ ڈیٹس

اقوامِ متحدہ میں فوجی مصنوعی ذہانت اور انسانی کنٹرول — پاکستان کا موقف

نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں پاکستانی مندوب ہشام احمد نے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے خودمختار یا انتہائی خودکار مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظاموں کے خطرات کی طرف توجہ دلائی۔ پاکستان نے کہا کہ مؤثر انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول کے بغیر ایسے نظام غلط اندازوں، تنازعے میں تیزی اور طاقت کے استعمال کی حد کے کم ہونے کے خدشات بڑھا سکتے ہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون (IHL) کی پاسداری متاثر ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی صلاحیت انسانی ذمہ داری کا متبادل نہیں بننی چاہیے اور فوجی فیصلوں میں انسانی نگرانی اور جوابدہی برقرار رہنا بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بیان میں کسی مخصوص ملک، ہتھیار یا نئے قومی قانون/پابندی کا الزام یا اعلان شامل نہیں تھا؛ دستیاب رپورٹ میں کسی مجوزہ بین الاقوامی معاہدے کی مخصوص شقیں یا مذاکراتی ٹائم لائن بھی نہیں بتائی گئیں۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

اقوامِ متحدہ میں فوجی مصنوعی ذہانت اور انسانی کنٹرول — پاکستان کا موقف | اردو ہیڈ لائنز