مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان کا بیرونی قرض — عالمی بینک انٹرنیشنل ڈیبٹ رپورٹ 2026

عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیبٹ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض 2025 کے اختتام تک 135.107 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2015 میں 68.673 ارب ڈالر تھا — ایک دہائی میں تقریباً دوگنا اضافہ۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس میں سرکاری و حکومتی ضمانت یافتہ قرض 107.076 ارب ڈالر، نجی شعبے کا غیر ضمانت یافتہ قرض 17.58 ارب ڈالر اور قلیل مدتی بیرونی واجبات تقریباً 10.45 ارب ڈالر شامل ہیں۔ قرض دہندگان میں چین سب سے بڑا واحد قرض دہندہ (22.4 ارب ڈالر)، عالمی بینک (19.2 ارب ڈالر) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (16.83 ارب ڈالر) نمایاں ہیں۔ سرکاری قرض دہندگان سے لیے گئے قرضوں کی اوسط مدت تقریباً 16 سال، اوسط رعایتی مدت چار سال اور اوسط شرح سود 3.6 فیصد بتائی گئی، جبکہ نجی قرض کی اوسط شرح سود 8.6 فیصد اور اوسط مدت تقریباً تین سال ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ نے بتایا کہ 2025 میں چین نے پاکستان کے دو ارب ڈالر قرضوں کی مدت میں توسیع کی جبکہ آئی ایم ایف نے توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت مجموعی طور پر 2.3 ارب ڈالر فراہم کیے۔ عالمی سیاق میں کم و متوسط آمدن والے ممالک کا مجموعی بیرونی قرض 2025 میں 5.5 فیصد بڑھ کر 9.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچا اور بیرونی قرض اور سود کی ادائیگیاں 2025 میں تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قرض کی پائیداری کا جائزہ لینے کے لیے برآمدی آمدن، زرمبادلہ ذخائر، قرض کی مدت، شرح سود، حکومتی محصولات اور سالانہ بیرونی ادائیگیاں ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے