مسلسل اپ ڈیٹس

پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنماؤں کی حراست اور مبینہ گمشدگیاں

پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی) نے سہیل آفریدی سمیت مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حراست یا مبینہ گمشدگی کے خلاف دائر متعدد درخواستیں اہم قانونی نکات پر لارجر بینچ کے فیصلے کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیں۔ درخواستوں میں صوبائی اسپیکر بابر سلیم سواتی، ارکانِ قومی اسمبلی جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد علی، صوبائی وزیر امجد علی خان، اراکینِ صوبائی اسمبلی اکرام اللہ اور اورنگزیب خان، اور گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کے معاملات شامل ہیں۔ سہیل آفریدی کے بارے میں موقف یہ ہے کہ وہ 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد منظرِ عام پر نہیں آئے اور ان کے بھائی محمد عامر نے الزام لگایا کہ انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس سے لے جایا گیا — اس دعوے کی عدالتی جانچ باقی ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران نوٹ کیا کہ صوبائی حکومت اور سینئر پولیس حکام نے عدالت کی 20 اکتوبر کی ہدایات کے مطابق جوابات جمع نہیں کرائے؛ صوبائی ایڈووکیٹ جنرل نے مزید تین روز کی مہلت مانگی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے آئین کے آرٹیکل 199 اور متعلقہ قانونی تحفظات کا حوالہ دیا۔ بینچ کا معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنا لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش ہے؛ اس کا مطلب حتمی فیصلہ نہیں بلکہ آئندہ عدالتی عمل میں حقائق، حراست کی قانونی حیثیت اور متعلقہ حکام کے جوابات کی جانچ کی جائے گی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے