مسلسل اپ ڈیٹس

پی ٹی اے نے عدالت میں موقف دے دیا: 16 سال سے کم بچوں پر سوشل میڈیا کی عمومی پابندی موجودہ قانون کے تحت نافذ نہیں ہو سکتی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی اے نے موقف دیا ہے کہ موجودہ قانونی دائرہ اختیار میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے عمومی طور پر سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا لازمی عمر کی تصدیق کا نظام نافذ کرنے کا اختیار شامل نہیں۔ پی ٹی اے نے کہا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے نئے قانون اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے، غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے اس کے اختیارات محدود اور عارضی ہیں، اور پیکا ترمیمی قانون 2025 کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا عمل جاری ہے۔ عدالت میں پی ٹی اے نے اپنی بلاکنگ کے اعداد و شمار، بین الاقوامی کمپنیوں کی مقامی رجسٹریشن کی غیرموجودگی اور تکنیکی مسائل کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کیں، اور بچوں کے تحفظ کے لیے شراکت داریوں اور ہیلپ لائنز کا حوالہ دیا۔ حتمی فیصلہ عدالت یا متعلقہ قانون سازی یا ریگولیٹری فریم ورک کے آئندہ اقدامات سے واضح ہوگا۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

پی ٹی اے نے عدالت میں موقف دے دیا: 16 سال سے کم بچوں پر سوشل میڈیا کی عمومی پابندی موجودہ قانون کے تحت نافذ نہیں ہو سکتی | اردو ہیڈ لائنز