مسلسل اپ ڈیٹس

لاہور: لیسکو بلنگ کا فرانزک آڈٹ اور صارف شکایات

پنجاب اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی (کمیٹی برائے قانون اصلاحات و خصوصی کمیٹی نمبر 16) نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی مبینہ اووربلنگ اور صارف ریکارڈ میں ردوبدل کے معاملات کی تحقیقات کے لیے جامع فرانزک آڈٹ کرانے، ذمہ داری طے کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف شکایات کی آزادانہ تحقیقات کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے نیپرا کی ہدایت کے مطابق طے شدہ لوڈشیڈنگ سے کم از کم 48 گھنٹے قبل صارفین کو اطلاع دینے، پورے علاقوں کی اجتماعی بجلی منقطع کرنے پر اعتراض اور بل ادا کرنے والے صارفین پر لائن لاسز یا چوری کے مالی اثرات منتقل نہ کرنے کے اصول اپنانے پر زور دیا۔ لیسکو کے چیف ایگزیکٹو محمد رمضان بٹ نے ماضی کی بے ضابطگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے متعدد انتظامی برطرفیاں اور وزیراعظم کی ہدایت پر تھرڈ پارٹی ٹیک وینڈر کے ذریعے آزاد بلنگ آڈٹ کے آغاز کی خبر دی، جس کی ابتدائی توجہ مشترکہ اجلاس میں زیرِ بحث متنازع کمرشل بلوں پر ہوگی۔ اجلاس میں بند جائیدادوں کے تخمینی بل، سیلاب متاثرہ علاقوں میں اوسط بلنگ، میٹروں کی قلت، غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ اور خطرناک برقی تنصیبات کے مسائل بھی اٹھائے گئے؛ پاور ڈویژن نے کسٹمر سروس کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے ضلع/ایگزیکٹو انجینئر سطح پر کسٹمر سروس کمیٹیاں اور وزیراعظم کے تحت حل نہ ہونے والی شکایات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی نگران ادارہ قائم کرنے کے منصوبے کا ذکر کیا۔ کمیٹی کی سفارشات خود عدالتی فیصلے یا حتمی آڈٹ رزلٹ کے برابر نہیں ہیں؛ عملدرآمد اور ذمہ داریوں کا حتمی تعین متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں، نیپرا اور آزاد آڈٹ کے نتائج پر منحصر ہوگا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے