مسلسل اپ ڈیٹس

روس: ریفائنریز پر ڈرون حملے اور خام تیل کی پراسیسنگ میں اتار چڑھاؤ

رائٹرز کے صنعتی ذرائع کے مطابق مارچ کے وسط سے جاری یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں روسی ریفائنریز میں وقفے اور بعض یونٹس کی بندشیں واقع ہوئیں جن سے ملکی ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اکتوبر کے دوسرے نصف میں حملوں کے رُکنے اور متاثرہ یونٹس کی بحالی کے بعد ریفائنریز کی مجموعی خام تیل پراسیسنگ ماہ کے آغاز کی سطح سے تقریباً 25 فیصد بڑھ کر تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی۔ روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ داخلی طور پر تیل و گیس آلات کی دستیابی مرمت میں مدد دے رہی ہے؛ صنعتی ذرائع نے بتایا کہ ڈیزل پیداوار روزانہ کم از کم 50 ہزار میٹرک ٹن بڑھ کر تقریباً 225 ہزار ٹن تک پہنچ گئی اور اس میں سے قریب 80 ہزار ٹن یومیہ برآمد کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔ رائٹرز نے یہ اعداد صنعتی ذرائع کے تخمینے قرار دیے اور واضح کیا کہ یہ سرکاری حتمی اعداد نہیں ہیں۔ حملوں میں حالیہ وقفہ امریکی ثالثی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 11 اکتوبر کے توانائی مربوط جنگ بندی کے اعلان کے بعد آیا، تاہم رپورٹ نوٹس کرتی ہے کہ وسیع جنگ بندی کی تصدیق نہیں ہوئی اور آئندہ پیداوار و برآمدات کا انحصار ریفائنریز کی مرمت، جنگی صورتحال، پابندیوں اور سفارتی انتظامات پر رہے گا۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے