مسلسل اپ ڈیٹس

سکیورٹی روٹ کیس — ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا ٹرائل

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سکیورٹی روٹ سے متعلق مقدمے میں انسانی حقوق وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اگلی سماعت پر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے اور سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا حکم دیا۔ دونوں نے سابقہ سماعت میں 342 کے تحت بیانات ریکارڈ کرانے سے انکار کیا تھا، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ ملزمان کو سوالات کے جواب خود دینا ہوں گے اور عدمِ تعمیل کی صورت میں ریکارڈ میں جواب جمع نہ کرانے کا اندراج ہو سکتا ہے۔ یہ مقدمہ جیل ٹرائل کے تحت چل رہا ہے؛ استغاثہ کے مطابق الزامات ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل، راستے سے رکاوٹیں ہٹانے اور عوامی بے چینی بھڑکانے سے متعلق ہیں اور دونوں کو 7 اکتوبر کو فردِ جرم سنائی گئی تھی۔ دفاع نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرائل کورٹ میں منتقلی اور سرکاری وکیل کی تقرری کو چیلنج کیا ہوا ہے؛ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے متعلقہ اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کارروائی ملتوی کی۔ عدالت کی ہدایت اس مرحلے پر طریقۂ کار سے متعلق ہے اور اسے جرم ثابت ہونے یا بریت کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے