مسلسل اپ ڈیٹس

فاٹا و پاٹا کے ٹیکس استثناؤں کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے سابق فاٹا اور پاٹا میں دیے گئے ٹیکس استثناؤں کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات کا جائزہ لیا۔ ذیلی کمیٹی اور ایف آئی اے کی رپورٹنگ کے مطابق تحقیقات میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا مجموعی حجم 1.12 ٹریلین روپے اور ممکنہ ٹیکس چوری کا تخمینہ تقریباً 400 ارب روپے بتایا گیا ہے—یہ اعداد تفتیشی دعوے ہیں اور کسی عدالت نے انہیں ثابت شدہ قرار نہیں دیا۔ کمیٹی چیئرمین نے بعض ایف بی آر اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کا الزام لگایا جسے ٹیکس حکام نے مسترد کیا؛ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ 512 کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ 174 مستفید کمپنیوں نے پشاور ہائی کورٹ میں مل کر 35 آئینی درخواستیں دائر کی ہیں جن کی آئندہ سماعت 12 نومبر کو متوقع ہے۔ اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کے ایک سینئر افسر نے بعض ٹیکس دستاویزات جاری کرنے سے انکار کیا اور رازداری کی وجوہات بتائیں، جبکہ کمیٹی نے ایف آئی اے کو متعلقہ کارخانوں کی پیداواری صلاحیت اور مراعات کے تحت درآمد کیے گئے خام مال کی مقدار کا تقابلی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ حتمی ذمہ داری اور قانونی نتیجہ تحقیقات اور عدالتی عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہی طے کیا جائے گا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے