مسلسل اپ ڈیٹس

سندھ: سرسوں اور تیل دار فصلوں کی جانب کسانوں کا رجحان

زیریں سندھ میں ربیع فصلوں کے آغاز کے ساتھ کسان پیداواری لاگت کم، فصل کا مختصر دورانیہ اور بہتر معاشی واپسی کی وجہ سے سرسوں اور دیگر تیل دار اجناس کا رخ کر رہے ہیں۔ محکمہ اعداد و شمار کے حوالوں میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں سرسوں کا زیرِ کاشت رقبہ 51,870 ہیکٹر سے بڑھ کر 2025 میں 61,165 ہیکٹر ہو گیا، جب کہ سورج مکھی کا رقبہ طویل مدت میں گھٹا ہے؛ ارسا نے ربیع کے لیے 22 فیصد کم آبپاشی کا تخمینہ بھی جاری کیا ہے۔ ملک میں خوردنی تیل کی طلب کا بڑا حصہ درآمدی ہے: 2025 میں خوردنی تیل کا درآمدی بل 5.86 ارب ڈالر تک گیا اور مقامی پیداوار تقریباً 531 ہزار ٹن تھی، جبکہ مالی سال 2025‑26 میں پام آئل کی درآمد ریکارڈ 3.48 ملین ٹن (3.78 ارب ڈالر) رہی۔ وفاقی سطح پر 2026–29 کے لیے نیشنل آئل سیڈز انہانسمنٹ پروگرام کے اہداف اور تل، ارنڈی اور کینولا کی مخلوط کاشت کے منصوبے تجویز کیے جا رہے ہیں، تاہم رپورٹ یہ بھی نوٹ کرتی ہے کہ صرف زیرِ کاشت رقبہ بڑھانا مقامی پیداوار اور درآمدی بل میں نمایاں کمی کے لیے کافی نہیں بلکہ بہتر بیج، فی ایکڑ پیداوار، آئل ایکسٹریکشن، مارکیٹنگ، کسانوں کو مناسب قیمت اور درآمدی پالیسی بھی ضروری ہیں۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سندھ: سرسوں اور تیل دار فصلوں کی جانب کسانوں کا رجحان | اردو ہیڈ لائنز