مسلسل اپ ڈیٹس

کراچی: ایس بی سی اے آڈٹ — خطرناک عمارتیں، اجازت ناموں اور انتظامی خامیاں

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی میں کراچی میں خطرناک قرار دی گئی 740 عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ رپورٹ نے انہدام کے انتظامات، انہدامی ٹھیکوں کے منظور ہونے کے عمل اور ٹھیکیداروں کی مشینری یا تکنیکی صلاحیت کی مناسب جانچ میں خامیاں بھی نشان زد کیں۔ آڈٹ نے ایس بی سی اے کے سنگل ونڈو نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور بتایا کہ سنگل ونڈو کے تحت تعمیراتی اجازت نامہ جاری کرنے میں اوسطاً 50.85 دن لگے جب کہ 2019 کے دستی طریقہ کار میں اوسط دورانیہ 14 دن تھا۔ بعض اجازت نامے فروخت اور اشتہار کے لیے درکار لازمی این او سیز کے بغیر جاری کیے گئے۔ آڈٹ کے نکات صرف مشاہدات ہیں اور یہ لازم نہیں کہ ہر معاملے میں بدعنوانی یا قانونی خلاف ورزی عدالتی طور پر ثابت ہو چکی ہو؛ ایس بی سی اے کا تفصیلی جواب خبر میں شامل نہیں تھا۔ یہ امور شہری تحفظ اور منظوری کے نظام کی مؤثریت سے متعلق اہم سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے