مسلسل اپ ڈیٹس

سندھ: غیر علاج شدہ صنعتی و طبی فضلہ — ماحولیاتی و صحتی خطرات

سندھ میں صنعتی، طبی اور بلدیاتی فضلہ 537 مقامات سے مناسب ٹریٹمنٹ یا صفائی کے بغیر خارج ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے ماحول، آبی ماحولیاتی نظام اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سیمینار میں بتایا گیا کہ کراچی کے چار ٹریٹمنٹ پلانٹس میں سے صرف ایک جزوی طور پر فعال ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سیوریج اور آلودہ پانی ندی نالوں اور بحیرہ تک بغیر مکمل صفائی کے پہنچ سکتا ہے۔ سابق سپریم کورٹ جج جسٹس امیر ہانی مسلم نے گندے پانی کی صفائی اور ماحولیاتی ضابطوں کے نفاذ میں کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ سیمینار میں طبی فضلے (انسینریٹر اور علیحدہ جمع آوری کی ضرورت)، صنعتی فضلے میں کیمیکلز و بھاری دھاتوں کے طویل المدتی اثرات، زرعی و زیرِ زمین پانی پر خطرات، اور سمندری ماحول و ماہی گیری پر اثرات پر بھی بات کی گئی۔ ماحولیاتی ضوابط کے نفاذ، فعال ٹریٹمنٹ پلانٹس، طبی فضلے کی محفوظ تلفی، صنعتی اخراج کی نگرانی اور فنڈنگ و منصوبہ بندی کی موثر نگرانی ضروری قرار دی گئی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سندھ: غیر علاج شدہ صنعتی و طبی فضلہ — ماحولیاتی و صحتی خطرات | اردو ہیڈ لائنز