مسلسل اپ ڈیٹس

اسٹیٹ بینک: موسمیاتی فنانس اور مالی شمولیت

اسلام آباد میں اسٹیٹ بینک اور الائنس فار فنانشل انکلوژن کے مشترکہ لرننگ پروگرام کے افتتاحی اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ موسمیاتی فنانس صرف سبز منصوبوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ چھوٹے کسانوں، کم آمدنی والے گھرانوں اور مائیکرو و چھوٹے کاروباروں کو خطرات سے نمٹنے، نقصان برداشت کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے موافقت میں مدد دینے والی مالی خدمات تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے 2022 کے سیلاب کے حوالہ سے موسمی واقعات کے بڑے معاشی و جسمانی نقصان کے اعداد و شمار کا تذکرہ کیا، کہا کہ مالی شمولیت کی شرح 71 فیصد تک پہنچی ہے مگر جنس کے حساب سے رسائی کا فرق 27 فیصد برقرار ہے، اور اسٹیٹ بینک کی گرین بینکنگ گائیڈ لائنز، ماحولیاتی و سماجی رسک فریم ورک، پاکستان گرین ٹیکسانومی اور دسمبر 2025 کے کلائمیٹ اسٹریس ٹیسٹنگ گائیڈ لائنز جیسے ضوابط کا حوالہ دیا۔ گورنر نے خواتین کے لیے مخصوص پروگراموں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا بھی ذکر کیا؛ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی فنانس کے کمزور طبقات تک حقیقی اثر کا انحصار بینکوں، بیمہ کمپنیوں، سرکاری پروگراموں اور مالیاتی اداروں کی مطلوبہ مصنوعات اور نفاذ پر ہوگا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے