مسلسل اپ ڈیٹس

اقوامِ متحدہ: بیرونی خلا کا پرامن استعمال، ہتھیاروں کی دوڑ اور ترقی پذیر ممالک کی رسائی

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی نے بیرونی خلا کے پرامن استعمال اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق مسودہ قرارداد بغیر ووٹ منظور کر لی۔ قرارداد میں رکن ممالک، خصوصاً بڑی خلائی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں، سے کہا گیا ہے کہ وہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے اور خلائی سرگرمیوں کو بین الاقوامی قانون، آؤٹر اسپیس ٹریٹی اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق پرامن رکھنے کی کوششیں کریں۔ متن اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور کو ترقی پذیر ممالک کے لیے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی صلاحیت سازی کے وسائل اور مواقع تلاش کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری انصر شاہ نے کمیٹی میں کہا کہ بیرونی خلا انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے، اسے غیر امتیازی اور صرف پرامن مقاصد کے لیے مخصوص رہنا چاہیے اور پاکستان نے خلا کے اسلحہ بند کرنے اور ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے قانونی طور پر پابند بین الاقوامی دستاویزات پر مذاکرات کی حمایت دہرائی۔ انہوں نے مداری ملبے کے مسئلے کی ذمہ داری ان ریاستوں پر ڈالی جو بڑے پیمانے پر ملبہ پیدا کر چکی ہیں اور تدارک میں تکنیکی و مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم اور جیو اسٹیشنری مدار سمیت مداری وسائل تک منصفانہ رسائی اور اپنے قومی خلائی پروگرام کو پائیدار ترقی، موسمیاتی لچک اور آفات کے خطرات کم کرنے کے مقاصد سے جوڑنے کی بات بھی کی؛ پاکستانی بیان میں مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل اور ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹس، زرعی استعمال کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا اور ’اسپیس فار کلائمیٹ‘ اقدام کا حوالہ دیا گیا۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد مسودہ قرارداد جنرل اسمبلی کے وسیع تر عمل کا حصہ بنے گا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے