مسلسل اپ ڈیٹس

عالمی بینک کا پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور اصلاحاتی قرض پروگراموں کا جائزہ

عالمی بینک نے پاکستان میں محاصل اور سرکاری خدمات سے متعلق دو اصلاحاتی قرض پروگراموں (تقریباً 67 کروڑ ڈالر) کے نفاذ کو مجموعی طور پر 'معتدل اطمینان بخش' قرار دیا ہے، مگر اہداف کے حصول میں سیاسی، انتظامی اور معاشی خطرات نمایاں قرار پائے ہیں۔ بینک نے جون 2025 میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 12.3 فیصد بتایا اور جون 2030 تک اسے 15 فیصد تک پہنچانے کا ہدف نوٹ کیا، جس کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مسلسل اصلاحات درکار ہوں گی۔ جائزے میں بعض منظوریوں اور انتظامی اقدامات میں تاخیر، تکنیکی معاونت کے نفاذ کی جاری کوششیں، اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے چیف شماریات کی تقرری کا معاملہ شامل ہے (یہ عہدہ 24 ستمبر 2026 سے خالی ہے اور پروگرام کی شرائط کے تحت خالی نہیں رہنا چاہیے)۔ عالمی بینک نے پنجاب کے لیے سات کروڑ ڈالر کے منسلک پروگرام میں بھی معتدل تا نمایاں خطرات کا ذکر کیا، جس میں براڈبینڈ، ڈیجیٹل سرکاری خدمات، ڈیٹا گورننس اور سائبر سکیورٹی کے انتظامات شامل ہیں۔ ادارے نے حکومتی اداروں کی صلاحیت، بروقت تقرریاں، مالی وسائل اور پالیسی تسلسل کو اہداف کے حصول کے لیے ضروری قرار دیا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے