وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اسلام آباد زون نے جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کے ذریعے 92 نرسوں کو سعودی عرب بھجوانے کے مقدمے میں دو ملزمان کی سزا حاصل کی ہے۔ ڈان کے مطابق اسپیشل کورٹ سینٹرل راولپنڈی کے جج عبدالرحمن محمد عارف نے 23 ستمبر کو 2024 میں درج مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ کیس پاکستان پینل کوڈ، امیگریشن آرڈیننس 1979 اور انسداد بدعنوانی قانون کی مختلف دفعات کے تحت چلایا گیا۔ نرسوں کو جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس پر سعودی عرب بھیجا گیا تھا اور وہ ایک ماہ کے اندر ڈی پورٹ ہو گئی تھیں۔
عدالتی وارنٹ کے مطابق مرکزی ایجنٹ غلام ذوالفقار علی عرف میاں ذوالفقار کو دھوکہ دہی، جعل سازی اور جعلی دستاویز کے استعمال سے متعلق پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت سات، سات اور سات سال سخت قید اور الگ الگ جرمانے سنائے گئے۔ امیگریشن آرڈیننس کی دفعہ 18 اور 22 کے تحت اسے دس، دس سال سخت قید اور جرمانے کی سزا بھی دی گئی۔ ایف آئی اے کی فراہم کردہ تفصیل میں ان سزاؤں کا مجموعہ 41 سال بتایا گیا ہے۔ ہر دفعہ کے تحت سزا کی قانونی ترتیب اور عملی مدت عدالتی وارنٹ کے مطابق نافذ ہوگی۔
عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 544-A کے تحت مرکزی مجرم کو 92 متاثرہ نرسوں کے لیے مجموعی طور پر 92 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا، یعنی ہر متاثرہ نرس کے لیے ایک لاکھ روپے۔ یہ رقم ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر کے پاس جمع کرائی جائے گی تاکہ متاثرین میں تقسیم کی جا سکے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں رقم اراضی کے واجبات کی طرح وصول کرنے اور مزید چھ ماہ سادہ قید کی شق بھی فیصلے میں شامل ہے۔
دوسرے مجرم غلام فرید کو امیگریشن آرڈیننس کی دفعہ 18 کے تحت تین سال سخت قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ تاہم عدالت نے اسے دفعہ 22 اور پاکستان پینل کوڈ کی دھوکہ دہی و جعل سازی سے متعلق دفعات کے الزامات میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف تمام الزامات یکساں طور پر ثابت نہیں مانے۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی پیش رفت وزیراعظم آفس کو بھی باقاعدگی سے بتائی جاتی رہی۔
