ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026-2030 کی منظوری دے دی ہے، جبکہ حکومت اور بینک نے اس حکمت عملی کو ترقیاتی منصوبوں اور قابلِ پیمائش نتائج میں بدلنے کے لیے قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا ذکر اے ڈی بی کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی 2 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ملاقات کے سرکاری اعلامیے میں کیا گیا۔ یہ نائب صدر کا اس منصب میں پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔
کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی ایک کثیر سالہ ادارہ جاتی فریم ورک ہے جو بینک اور رکن ملک کے درمیان تعاون کے ترجیحی شعبے متعین کرتا ہے۔ اس کی منظوری کو ہر زیر بحث منصوبے کے قرض، گرانٹ یا سرمایہ کاری کی خودکار منظوری نہیں سمجھا جاسکتا۔ انفرادی منصوبوں کے لیے تیاری، فزیبلٹی، ماحولیاتی و سماجی جانچ، حکومتی کارروائی، اے ڈی بی بورڈ یا متعلقہ مجاز سطح کی منظوری اور مالی معاہدے کے الگ مراحل درکار ہوسکتے ہیں۔
ملاقات میں مین لائن ون ریلوے منصوبے کو قومی ترجیح کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔ اے ڈی بی کے نائب صدر نے منصوبے پر حکومتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور جلد سنگ بنیاد کی جانب کام میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستان ریلوے کی ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے الگ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی دی، جس پر پاکستانی جانب نے عمل شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ یہ تجویز انتظامی اصلاحات کے پلیٹ فارم سے متعلق ہے؛ موجودہ اعلامیے میں ایم ایل ون کے لیے کسی نئے قرض کی حتمی منظوری، رقم، شرائط یا اجرا کی تصدیق نہیں کی گئی۔
احد چیمہ نے نجکاری کو حکومتی ترجیح قرار دیتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مؤثر فریم ورک، منصوبوں کے بہتر عمل درآمد اور تجارتی طور پر قابلِ عمل پائپ لائن بنانے کے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اے ڈی بی سے پاکستان میں نجی شعبے سے متعلق آپریشنز کا حجم بڑھانے کی درخواست کی۔ بینک کے نائب صدر نے اپنے نجی شعبہ پورٹ فولیو کو مزید وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی، لیکن کسی مخصوص کمپنی، شعبے یا سرمایہ کاری رقم کا اعلان نہیں ہوا۔
اے ڈی بی نے پاکستان میں منصوبہ جاتی تیاری بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں اور بعض نئے مالیاتی آلات کے استعمال کا بھی حوالہ دیا۔ سرکاری بیان کے مطابق ان میں پالیسی پر مبنی ضمانت اور پانڈا بانڈ اجرا کے لیے ضمانتی تعاون جیسے طریقے شامل رہے ہیں۔ ایسے آلات براہ راست بجٹ امداد، قرض ضمانت یا سرمایہ منڈی تک رسائی میں مختلف کردار ادا کرسکتے ہیں؛ ہر آلے کی مالی ذمہ داری اور خطرہ اس کی مخصوص شرائط کے مطابق ہوتا ہے۔
دونوں فریقوں نے چھوٹے و درمیانے کاروبار مضبوط بنانے، برآمدات پر مبنی نمو، ہدفی ہنرمندی پروگرام، بجلی کی ترسیل و تقسیم کے بنیادی ڈھانچے، پانی و غذائی تحفظ اور تکنیکی معاونت بڑھانے پر بھی گفتگو کی۔ یہ شعبے نئی حکمت عملی کے تحت ممکنہ تعاون کی سمتیں ہیں۔ اجلاس کے بیان میں ان کے لیے منصوبہ وار بجٹ، صوبائی تقسیم، آغاز کی تاریخ یا نتائج کے اشاریے الگ سے جاری نہیں کیے گئے۔
حکومت نے گزشتہ تین سے چار برس کی مالی، ساختی اور حکمرانی اصلاحات کو معاشی استحکام اور سرمایہ کار اعتماد سے جوڑا، جبکہ اے ڈی بی نمائندے نے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور منصوبہ تیاری کی اصلاحات کو سراہا۔ یہ حکومتی اور ترقیاتی شراکت دار کے جائزے ہیں؛ کسی ایک ملاقات کے بیانات کو تمام معاشی اشاریوں کی آزاد اور مکمل توثیق نہیں سمجھنا چاہیے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت اے ڈی بی کی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026-2030 کی منظوری، ریلوے ادارہ جاتی اصلاحات کے ورکنگ گروپ کی تجویز، نجی شعبہ آپریشنز بڑھانے کی یقین دہانی اور متعدد ترجیحی شعبوں میں رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔ اس حکمت عملی کے حقیقی اثر کا تعین آئندہ منظور ہونے والے منصوبوں، مالی وعدوں، عمل درآمد کی رفتار اور عوامی طور پر قابلِ جانچ نتائج سے ہوگا۔




