اسلام آباد: وفاقی حکام نے تقریباً 6.5 ارب ڈالر مالیت کے 38 منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت مارکیٹ میں لانے اور 27 سرکاری اثاثوں یا اداروں کی نجکاری کے پروگرام کو آگے بڑھانے کا خاکہ پیش کیا ہے۔ یہ تفصیلات 4 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے ’قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ برائے پی پی پیز اور نجکاری‘ میں سامنے آئیں، جہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان پی پی پی مانیٹر بھی متعارف کرایا گیا۔

حکام کے مطابق وفاقی پی پی پی پائپ لائن میں سڑکوں، ریلوے، ہوا بازی، صحت اور صنعتی بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ نجکاری پروگرام میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور مخصوص نوعیت کے بینک شامل بتائے گئے۔ تاہم 38 منصوبوں اور 27 اثاثوں کی گنتی ایک منصوبہ بندی اور لین دین کی پائپ لائن ظاہر کرتی ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منصوبوں کے سرمایہ کار منتخب، مالی بندوبست مکمل یا ملکیت کی منتقلی ہو چکی ہے۔

پاکستان پی پی پی مانیٹر کے مطابق ملک میں 1990 کی دہائی سے اب تک 154 پی پی پی لین دین مالیاتی تکمیل تک پہنچے ہیں اور ان سے تقریباً 36 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری منسلک رہی ہے۔ مانیٹر کا مقصد ماضی کے منصوبوں، آئندہ مواقع اور سرمایہ کاری سرگرمیوں کی معلومات ایک جگہ فراہم کرنا ہے تاکہ مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کار مختلف سرکاری اداروں کی پائپ لائن کو نسبتاً واضح انداز میں دیکھ سکیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان کی اگلی اقتصادی نمو میں نجی کاروبار کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ حکومت کی ذمہ داری قابلِ عمل منصوبے تیار کرنا، شفاف قواعد قائم کرنا اور سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹیں کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق پی پی پیز سرکاری وسائل کی محدود گنجائش کے باوجود سرمایہ اور انتظامی مہارت لا سکتے ہیں، مگر ہر منصوبے کی لاگت، آمدن، رسک تقسیم اور عوامی خدمت کے معیار کا درست تعین ضروری ہوگا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ حکومت مستقبل کے تمام بنیادی ڈھانچے کو صرف سرکاری بجٹ سے نہ تو مالی مدد دے سکتی ہے اور نہ ہر تجارتی ادارے کا انتظام مؤثر طور پر چلا سکتی ہے۔ ان کے مطابق نجکاری، انتظامی شراکت یا اثاثہ جاتی مونیٹائزیشن کے ذریعے نجی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور جواب دہی شامل کی جا سکتی ہے۔ یہ حکومت کا پالیسی مؤقف ہے؛ ہر لین دین کے حق یا مخالفت کا عملی جائزہ اس کی قیمت، مسابقت، ملازمین، صارفین اور ریاستی ذمہ داریوں کی مخصوص شرائط سے ہوگا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ نے کہا کہ اچھی طرح تیار کیے گئے پی پی پی منصوبے محدود عوامی وسائل کی تکمیل، خدمات کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی طویل مدتی دیکھ بھال میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ پی پی پی معاہدوں میں طلب، تعمیر، شرحِ مبادلہ، آمدن اور سرکاری ضمانتوں کے خطرات واضح طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے، ورنہ نجی شراکت مستقبل میں سرکاری مالی ذمہ داری بن سکتی ہے۔

تقریب کو ایشیائی ترقیاتی بینک، وزارتِ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی نے منظم کیا۔ وفاقی و صوبائی اداروں، مالیاتی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور سرمایہ کار برادری کے نمائندے شریک ہوئے۔ حکومت نے کامیاب لین دین کو سرمایہ کار اعتماد کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ آئندہ مرحلے میں ہر منصوبے کی فزیبلٹی، بولی کی شرائط، ریگولیٹری منظوری، قیمت اور معاہدہ الگ الگ طے ہوگا۔

اس اعلان کی قابلِ پیمائش پیش رفت صرف منصوبوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے جانچی جائے گی کہ کتنے منصوبے شفاف مسابقتی بولی، مالیاتی تکمیل اور عملی تعمیر یا خدمت تک پہنچتے ہیں۔ اسی طرح 27 نجکاری معاملات کو مکمل سمجھنے کے لیے کابینہ اور متعلقہ کمیٹیوں کی منظوری، سرمایہ کاروں کی اہلیت، بولیوں کی جانچ اور قانونی منتقلی کے الگ مراحل درکار ہوں گے۔