اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان روپے میں نامزد مگر امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والا خودمختار بانڈ متعارف کرانے اور موجودہ یورو بانڈ قرض کے کچھ حصے کو ٹوکنائز کرنے کے منصوبوں پر کام آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے 4 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان دونوں اقدامات کو بیرونی مالیاتی ذرائع متنوع بنانے اور ڈیجیٹل مالیاتی آلات استعمال کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے روپے سے منسلک، ڈالر میں سیٹل بانڈ کے لیے مالیاتی اداروں کو پہلے ہی مینڈیٹ دے دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے 21 جولائی کو بتایا تھا کہ اس پروگرام کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک اور ڈوئچے بینک پر مشتمل کنسورشیم تین سال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ تقرری ممکنہ اجرا کی تیاری ہے؛ اس سے خودکار طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بانڈ فروخت ہو چکا، قیمت طے ہوگئی یا رقم سرکاری ذخائر میں آ گئی ہے۔
’روپے میں نامزد، ڈالر میں سیٹل‘ ڈھانچے کی حتمی معاشی اور قانونی صورت پیشکش کی دستاویزات میں سامنے آئے گی۔ عمومی طور پر ایسی اصطلاح سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ بانڈ کی قدر یا واپسی کا حساب پاکستانی روپے سے منسلک ہو مگر ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے۔ شرحِ مبادلہ کے استعمال، اصل رقم، منافع، مدت، سرمایہ کار اہلیت، فہرست سازی اور تصفیے کے قواعد ابھی عوامی طور پر جاری نہیں کیے گئے، اس لیے ممکنہ سرمایہ کار خطرے کی درست تقسیم کا فیصلہ حتمی شرائط کے بعد ہی کر سکیں گے۔
اورنگزیب نے کہا کہ حکومت موجودہ یورو بانڈ قرض میں سے کچھ کو ٹوکنائز کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ٹوکنائزیشن سے روایتی مالی اثاثے یا قرض کی ڈیجیٹل نمائندگی بلاک چین یا کسی دوسرے تقسیم شدہ لیجر جیسے نظام پر بنائی جا سکتی ہے، جس سے اجرا، ملکیت کے ریکارڈ، تجارت یا تصفیے کے بعض مراحل ڈیجیٹل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ٹوکن بنانا قرض معاف ہونے، اصل ذمہ داری ختم ہونے یا کرپٹو کرنسی جاری کرنے کے مترادف نہیں؛ بنیادی خودمختار واجبات اپنی قانونی شرائط کے مطابق برقرار رہتے ہیں۔
حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا موجودہ یورو بانڈ، کتنی رقم یا کس مدت کا قرض ٹوکنائز کیا جائے گا۔ اسی طرح استعمال ہونے والے تکنیکی پلیٹ فارم، نگران ادارے، کسٹڈی، سرمایہ کار شناخت، منی لانڈرنگ سے بچاؤ، سائبر سکیورٹی، قانونی دائرہ اختیار اور ثانوی مارکیٹ کے انتظامات کی تفصیل بھی سامنے نہیں آئی۔ ان امور کے بغیر ٹوکنائزیشن کو عملی لین دین یا مکمل شدہ قرض انتظام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تازہ اعلان پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی مارکیٹ میں 3 ارب ڈالر کے دو حصوں والے یورو بانڈ اجرا کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ وہ اجرا مکمل شدہ سرمایہ اکٹھا کرنے کا الگ واقعہ ہے، جبکہ روپے سے منسلک بانڈ اور ٹوکنائزیشن مستقبل کے آلات سے متعلق منصوبہ بندی ہیں۔ وزارتِ خزانہ یورو بانڈ، بین الاقوامی سکوک، پانڈا بانڈ اور مقامی کرنسی سے منسلک ڈھانچوں کے ذریعے سرمایہ کار بنیاد وسیع کرنے کی پالیسی بیان کر چکی ہے۔
وزیر خزانہ نے اسی خطاب میں کہا کہ رواں مالی سال کے لیے مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو چار فیصد سے زیادہ رکھنے کا ہدف ہے۔ ان کے مطابق 30 جون کو زرمبادلہ ذخائر تقریباً 18.4 ارب ڈالر تھے اور مالی سال 2027 کے اختتام تک انہیں 21 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ حکومتی اہداف ہیں، یقینی نتائج نہیں؛ تیل کی قیمت، بیرونی ادائیگیاں، برآمدات، ترسیلات، سرمایہ بہاؤ اور عالمی شرحِ سود حتمی صورتِ حال کو متاثر کریں گے۔
اورنگزیب نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکا–ایران جنگ اور اس سے پیدا ہونے والی تیل قیمتوں کی غیر یقینی کو پاکستانی نمو اور مہنگائی کے لیے اہم بیرونی خطرہ بھی قرار دیا۔ پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے بلند قیمتیں زرمبادلہ کی ضرورت اور حکومتی مالیات پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ نئے بانڈ ذرائع مالیاتی گنجائش فراہم کر سکتے ہیں، مگر ان سے مستقبل کی اصل رقم، منافع اور شرحِ مبادلہ کی ذمہ داریاں بھی پیدا ہوں گی۔
موجودہ مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے روپے سے منسلک ڈالر سیٹل بانڈ کے لیے ادارے مقرر کیے ہیں اور وزیر خزانہ نے ٹوکنائزیشن پر کام کا اعلان کیا ہے۔ اگلے قابلِ نگرانی مراحل میں قانونی و تکنیکی مشیروں کی تقرری، دستاویزات، ریگولیٹری منظوری، سرمایہ کار مشاورت، رقم و مدت کا تعین، قیمت سازی اور حقیقی اجرا شامل ہوں گے۔ ان میں سے کسی مرحلے کی تکمیل کا الگ اعلان ہونے تک دونوں اقدامات کو منصوبہ سمجھا جائے گا، مکمل لین دین نہیں۔




