اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 2026 کی دوسری ششماہی، یعنی جولائی سے دسمبر، کے لیے متعدد گیس فیلڈز کے ویل ہیڈ نرخوں میں اضافہ نوٹیفائی کر دیا ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشنز اور مارکیٹ تجزیے کے مطابق عمومی اضافہ تقریباً 8 سے 10 فیصد ہے، جبکہ بعض انفرادی فیلڈز میں نرخ 15 سے 16 فیصد کے قریب بڑھے ہیں۔ باقی فیلڈز کے نوٹیفکیشنز الگ سے جاری ہونے کی توقع ہے۔

ویل ہیڈ قیمت وہ رقم ہے جو پیداوار کے مقام پر قدرتی گیس کے لیے تلاش و پیداوار کمپنی کو ادا کی جاتی ہے۔ یہ گھریلو، تجارتی یا صنعتی صارف کے بل میں لگنے والا ریٹیل گیس ٹیرف نہیں۔ صارف قیمت میں ٹرانسمیشن و تقسیم کے اخراجات، نقصانات، ٹیکس، کراس سبسڈی، حکومتی پالیسی اور اوگرا کی الگ آمدنی ضرورت کے فیصلے شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے تازہ ویل ہیڈ اضافہ خودکار طور پر اسی تناسب سے صارف بل بڑھنے کا اعلان نہیں ہے۔

اوگرا ویل ہیڈ نرخ عموماً چھ ماہ بعد متعلقہ پیٹرولیم پالیسی اور قیمت فارمولے کے تحت نظرثانی کرتا ہے۔ جولائی تا دسمبر 2026 کی قیمتوں کے لیے پچھلے چھ ماہ کا تیل حوالہ استعمال کیا گیا۔ عرب لائٹ خام تیل جنوری سے جون 2026 کے دوران اوسطاً 92.2 ڈالر فی بیرل رہا، جو جولائی سے دسمبر 2025 کے 68.4 ڈالر فی بیرل اوسط سے تقریباً 35 فیصد زیادہ ہے۔

پیٹرولیم پالیسی 2012 کے تحت کام کرنے والی فیلڈز میں تیل کے 35 فیصد اضافے کا پورا اثر گیس نرخوں میں منتقل نہیں ہوتا، کیونکہ پالیسی میں سلائیڈنگ اسکیل یا فائدے کی تقسیم کا طریقہ موجود ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے اندازے کے مطابق اس گروپ کے ویل ہیڈ نرخ تقریباً 10 سے 11 فیصد بڑھ سکتے ہیں۔ یہ تجزیاتی تخمینہ ہے؛ ہر فیلڈ کے لیے قابلِ عمل حتمی رقم اس کے مخصوص سرکاری نوٹیفکیشن سے طے ہوگی۔

جاری تفصیلات کے مطابق چچار فیلڈ کا نرخ 1.75 ڈالر سے 15.8 فیصد بڑھ کر 2.02 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوا۔ بھٹ اور بدھرا فیلڈز کے نرخ 3.86 ڈالر سے 15.4 فیصد بڑھ کر 4.45 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوئے۔ فضل ایکس-1، ریان-1، شہدادپور اور ڈھوک سلطان کے نرخوں میں تقریباً 9.8 فیصد اضافہ بتایا گیا ہے۔

رزق فیلڈ کا نرخ 5.92 ڈالر سے 6.7 فیصد بڑھ کر 6.32 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوا، جبکہ رحمان فیلڈ کی دونوں پیداواری اقسام میں بھی تقریباً 6.7 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ آدم ایکس-1 ویل کا نرخ معمولی 0.4 فیصد اضافے سے 2.73 ڈالر سے 2.74 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگیا۔ فیلڈز کے درمیان فرق اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ بعض معاہدوں میں تیل قیمت کا حوالہ جنوری تا جون کے بجائے دسمبر تا مئی جیسے مختلف چھ ماہ کے دورانیے سے لیا جاتا ہے۔

بلند ویل ہیڈ قیمتیں ان تلاش و پیداوار کمپنیوں کی آمدن کے لیے مثبت ہو سکتی ہیں جن کا بڑا حصہ متاثرہ فیلڈز سے آتا ہے۔ تاہم کمپنی کی حتمی کمائی صرف نوٹیفائیڈ قیمت پر منحصر نہیں؛ پیداواری حجم، گیس کی خریداری، کرنسی شرح، رائلٹی، ٹیکس، وصولیوں میں تاخیر اور گردشی قرض بھی نتیجے کو بدلتے ہیں۔ اس لیے نرخ میں اضافہ خالص منافع میں اسی شرح کے یقینی اضافے کے مساوی نہیں۔

اوگرا نے ابھی صرف متعدد فیلڈز کے نرخ جاری کیے ہیں۔ باقی نوٹیفکیشنز، خریدار کمپنیوں کے حسابات اور حکومت کے کسی ممکنہ صارف ٹیرف فیصلے کو الگ واقعات سمجھا جائے گا۔ موجودہ مصدقہ نتیجہ پروڈیوسر سطح پر مخصوص فیلڈز کے جولائی تا دسمبر 2026 ویل ہیڈ نرخوں کی نظرثانی ہے۔