کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ریجنل ٹیکس آفس-II کراچی نے ملیر میں ایک مبینہ غیر قانونی سگریٹ ساز فیکٹری پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے عمارت سیل اور پلانٹ، مشینری، خام مال اور تیار شدہ اسٹاک ضبط کر لیا ہے۔ ایف بی آر نے 5 ستمبر 2026 کو جاری بیان میں کہا کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کے فوجداری کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
سرکاری بیان کے مطابق کارروائی ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ اسکواڈ، آر ٹی او-II کراچی اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک نے کراچی کے مضافاتی علاقے ملیر میں کی۔ ٹیم نے مقام پر موجود سگریٹ بنانے، پیکنگ، ٹوکن لگانے اور فلٹر تیار کرنے والی مشینیں، ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز اور دوسرے متعلقہ آلات اپنے قبضے میں لیے۔ ایف بی آر نے اس مشینری کی مجموعی مالیت تقریباً 20 کروڑ روپے بتائی ہے۔
موقع سے تقریباً 700 کلوگرام خام تمباکو بھی ملنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ تیار شدہ اسٹاک کی مقدار سرکاری بیان میں الگ عدد کے ساتھ نہیں بتائی گئی۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ضبطی کے بعد مکمل پلانٹ اور مشینری کھول کر خام اور تیار مال کے ساتھ آر ٹی او-II کراچی کے سرکاری احاطے میں منتقل کر دی گئی۔ ادارے کے مطابق یہ منتقلی مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت کی گئی۔
ایف بی آر کے ابتدائی جائزے میں نصب مشینری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً سات لاکھ سگریٹ اسٹکس بتائی گئی ہے، جو سالانہ بنیاد پر لگ بھگ 20 کروڑ اسٹکس بنتی ہے۔ اسی ابتدائی حساب پر قومی خزانے کو ممکنہ سالانہ محصولات نقصان تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے قرار دیا گیا۔ یہ پیداواری صلاحیت اور ریونیو نقصان تفتیشی ادارے کے تخمینے ہیں؛ حقیقی پیداوار، فروخت اور واجب الادا ٹیکس کا حتمی تعین ریکارڈ، فرانزک جانچ، قانونی حساب اور عدالتی کارروائی سے ہوگا۔
آر ٹی او-II کے مطابق متعلقہ افراد کے خلاف خصوصی جج کسٹمز و ٹیکسیشن کراچی کے سامنے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ ایف آئی آر کا اندراج الزام اور باقاعدہ تفتیش کے آغاز کو ظاہر کرتا ہے، جرم ثابت ہونے یا سزا کے حتمی فیصلے کو نہیں۔ دستیاب سرکاری ریلیز میں فیکٹری کے مبینہ مالکان، چلانے والوں، برانڈ نام، گرفتار افراد یا ان کا مؤقف درج نہیں کیا گیا، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں قیاس درست نہیں ہوگا۔
کارروائی ڈی سی آئی آر باقر علی کی سربراہی میں انفورسمنٹ ٹیم نے انجام دی، کمشنر ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر اسلم مری نے رابطہ کاری کی اور چیف کمشنر آر ٹی او-II کراچی ظفر رفیق نے نگرانی کی۔ ایف بی آر نے کہا کہ آپریشن وزیراعظم، چیئرمین ایف بی آر اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی ہدایات کے تحت غیر قانونی تمباکو تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف جاری مہم کا حصہ تھا۔
ضبطی اور حتمی ضبطِ ملکیت میں قانونی فرق بھی اہم ہے۔ نفاذی ادارہ تفتیش کے دوران سامان قبضے میں لے سکتا ہے، لیکن ملکیت کی مستقل ضبطی، جرمانہ، ٹیکس واجبات یا فوجداری سزا متعلقہ قانون، نوٹس، شواہد، سماعت اور مجاز عدالت یا فورم کے فیصلے سے طے ہوں گے۔ اسی طرح ایف بی آر کا 20 کروڑ روپے مالیت کا بیان ابتدائی سرکاری قدر ہے، آزاد مارکیٹ ویلیو یا عدالتی طور پر منظور شدہ قیمت نہیں۔
غیر قانونی یا نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ سازی سے ایکسائز و سیلز ٹیکس کی وصولی، صحت انتباہات، مصنوعات کی نگرانی اور قانونی صنعت کے مسابقتی ماحول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس مخصوص یونٹ کے بارے میں قابلِ تصدیق موجودہ نتیجہ فیکٹری کا سیل ہونا، مشینری و اسٹاک کی ضبطی اور ایف آئی آر کا اندراج ہے۔ ذمہ داری اور محصولات نقصان کی حتمی رقم زیرِ تفتیش رہے گی۔
اگلے مراحل میں مشینری اور اسٹاک کی فہرست و مالیت کی تصدیق، مالی و پیداواری ریکارڈ کی جانچ، ممکنہ ملزمان کی شناخت، ٹیکس واجبات کا حساب، استغاثہ کی کارروائی اور عدالت میں شواہد پیش کرنا شامل ہو سکتے ہیں۔ ایف بی آر نے تحقیقات مکمل ہونے یا مقدمے کی اگلی سماعت کی تاریخ ابھی نہیں بتائی۔




