اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے رواں مالی سال 2026-27 میں معاشی شرح نمو کی پیش گوئی 3.7 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔ بینک کے ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک کے مطابق یہ شرح حکومت کے سرکاری ہدف سے کم ہے اور جنوبی ایشیا میں نسبتاً کم شرح نمو میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معاشی رفتار کو محدود کر سکتے ہیں۔ اے ڈی بی نے یہ بھی کہا کہ بڑھتی ہوئی زندگی گزارنے کی لاگت کے باعث گھریلو کھپت دباؤ میں رہنے کا امکان ہے، جس سے اندرونی طلب اور مجموعی معاشی سرگرمی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بینک نے مالی سال کے لیے مہنگائی کی اوسط شرح 8.3 فیصد رہنے کا تخمینہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی مرکزی بینک کے درمیانی مدت کے ہدف سے اوپر رہ سکتی ہے، جس سے مانیٹری پالیسی کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ قیمتوں کا دباؤ خصوصاً توانائی اور بیرونی حالات سے متاثر ہونے والی اشیا کے ذریعے معیشت تک منتقل ہو سکتا ہے۔

اے ڈی بی نے محصولات کے حوالے سے بھی مالیاتی خطرات کی نشاندہی کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیاں مقررہ ہدف سے کم رہیں تو حکومت کو اخراجات میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور ترقیاتی و سماجی ضروریات کے درمیان توازن مزید اہم ہو جائے گا۔

پاکستان حالیہ برسوں میں مالیاتی استحکام، بیرونی ادائیگیوں اور محصولات بڑھانے کے لیے مختلف اصلاحات پر عمل کر رہا ہے۔ شرح نمو میں بہتری کے باوجود اے ڈی بی کا تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ تیز رفتار اور پائیدار توسیع کے لیے نجی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں مضبوط اضافہ درکار ہوگا۔

اے ڈی بی کی پیش گوئی ایک تخمینہ ہے اور اصل معاشی نتیجہ عالمی توانائی قیمتوں، علاقائی تنازعات، زرعی پیداوار، مالیاتی پالیسی اور اصلاحاتی اقدامات سمیت کئی عوامل سے مختلف ہو سکتا ہے۔ بینک کی تازہ رپورٹ فی الحال 3.7 فیصد نمو اور 8.3 فیصد مہنگائی کو بنیادی منظرنامہ قرار دیتی ہے۔