لاہور: پاکستان میں زیر تعلیم 13 افغان میڈیکل طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی وطن واپسی سے متعلق ہدایات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پی ایم ڈی سی کی متعلقہ ہدایات کا قانونی اور آئینی جائزہ لے کر انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو ایک خط کے ذریعے سابق پالیسی ہدایات پر عمل درآمد کی تاکید کی تھی۔ ہدایت کے مطابق موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے لیے نئی داخلہ، پلیسمنٹ، ٹرانسفر، مائیگریشن یا دیگر سہولت کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ پہلے سے میڈیکل اور ڈینٹل پروگراموں میں زیر تعلیم افغان شہریوں کو افغانستان واپس جانے کا کہا گیا۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور ان ابتدائی سرکاری جامعات میں شامل تھی جس نے اس ہدایت پر عمل کے لیے اقدامات کیے۔ یونیورسٹی نے 20 افغان ایم بی بی ایس طلبہ کو 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس پیش رفت کے بعد متاثرہ طلبہ نے عدالتی راستہ اختیار کیا اور پالیسی کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا۔

درخواست گزاروں کا مؤقف عدالتی درخواستوں میں پیش کیا گیا ہے اور ابھی عدالت کی جانب سے اس دعوے پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس لیے پی ایم ڈی سی کی ہدایات کو فی الحال چیلنج شدہ انتظامی اقدام سمجھا جائے گا، نہ کہ عدالت کی طرف سے غیر قانونی قرار دیا گیا فیصلہ۔ کیس میں متعلقہ سرکاری اداروں کا تفصیلی قانونی جواب اور عدالت کی آئندہ کارروائی اہم ہوگی۔

یہ معاملہ تعلیم، امیگریشن پالیسی اور پہلے سے جاری تعلیمی پروگراموں کے تسلسل سے متعلق کئی عملی سوالات پیدا کرتا ہے۔ میڈیکل ڈگریاں کئی سال پر محیط ہوتی ہیں اور دورانِ تعلیم اچانک ادارہ یا ملک تبدیل کرنے سے کریڈٹس، کلینیکل تربیت، امتحانات اور ڈگری کی تکمیل متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ریاستی ادارے غیر ملکی شہریوں کے قیام اور تعلیمی پالیسی کو ملکی قوانین اور حکومتی فیصلوں کے تحت منظم کرتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں کا نتیجہ اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوگا کہ زیر تعلیم افغان طلبہ پر پی ایم ڈی سی کی موجودہ ہدایات کس حد تک نافذ رہیں گی۔ حتمی قانونی حیثیت عدالت کے حکم کے بعد ہی واضح ہوگی۔